صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 293 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 293

صحيح البخاری جلد۳ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ۔اطرافه: ١٦۰۳، ١٦٠٤، ١٦١٦، ١٦٤٤- ۲۹۳ ٢٥- كتاب الحج طواف کرتے تو آپ نالے کے نشیب میں دوڑتے۔: تشریح : مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا باب کی پہلی روایت کے الفاظ فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُوا سے ظاہر ہوتا ہے کہ حجر اسود کو چھونے کے بعد احرام کھول دیے جاتے ہیں۔ابن تین نے رکن سے مروہ کا رُکن مراد لیا ہے جو سعی صفا مروہ کی آخری حد ہے۔یہاں عمرہ سے متعلق مناسک ختم ہوتے ہیں۔مگر امام ابن حجر نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ حضرت اسماء کی اس روایت میں جو ابوالاسود سے مروی ہے یہ الفاظ ہیں: فَلَمَّا مَسَحْنَا الْبَيْتَ اَحْلَلْنَا۔(روایت نمبر ۱۷۹۶) اس سے واضح ہے کہ مسیح رکن کنا یہ ہے جس سے مراد بیت اللہ کا طواف ہے۔حج اور عمرہ دونوں میں حجر اسود سے طواف شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتا ہے۔علامہ نووی نے محولہ بالا جملے سے مراد طواف بیت اللہ اور سعی صفا ومروہ دونوں لئے ہیں۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۶۰۲) امام بخاری نے اس کی تشریح نہ صرف عنوان باب میں ہی کر دی ہے بلکہ اس کے بعد کی دور واسیتیں ( نمبر ۱۶ ۱۶، ۱۶۱۷) لا کر منقولہ روایت فَلَمَّا مَسَحْنَا الْبَيْتَ اَحْلَلْنَا۔(روایت نمبر ۱۷۹۶) کے غایت درجہ اختصار کو زیادہ واضح کر دیا ہے۔اس تشریح کو سمجھنے کے لئے اصل واقعہ اور ارکان حج اور عروہ بن زبیر کا مذہب ذہن میں تحضر ہونا چاہیے۔امام مسلم جلد نے محولہ بالا واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔لیکن امام بخاری نے صرف وہ حصہ لیا ہے جو مستند ومرفوع روایت میں آیا ہے۔عروہ بن زبیر کے نزدیک حج میں طواف بیت اللہ کے علاوہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا بھی ضروری رکن ہے۔مگر حضرت ابن عباس کے نزدیک سعی ضروری نہیں۔(فتح الباری جز ۳۶ صفحہ ۶۰۳ ) ان کا یہ اختلاف مشہور تھا۔ایک عراقی شخص نے محمد بن عبد الرحمن سے کہا کہ عروہ سے دریافت کریں آیا حج کا احرام طواف بیت اللہ کے بعد کھول دیا جائے ؟ تو ان کے سوال پر عروہ نے جواب دیا کہ جس نے حج کا احرام باندھا ہو، وہ حج کر کے ہی احرام کھول سکتا ہے۔محمد بن عبد الرحمن نے عروہ کا یہ جواب سن کر اس عراقی سے کہا کہ ان سے کہیں کہ ایک شخص نے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایسا ہی کیا اور حضرت زبیرؓ اور حضرت اسماء نے بھی۔عروہ نے جواب دیا کہ وہ شخص خود آ کر کیوں نہیں پوچھتا ؟ میرا خیال ہے کہ یہ پوچھنے والا عراقی ہے۔اس نے غلط کہا ہے۔قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ لَهُ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِيْنَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَی۔۔۔آگے وہی روایت ہے سوائے اس کے کہ مسلم کی روایت میں لَمْ تَكُنُ عُمَرَہ کی جگہ الفاظ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ہیں۔یعنی حج کے سوا اور کچھ نہیں ہوا۔اس قسم کا خفیف سا اختلاف ان روایتوں میں ہے۔مسلم کی روایت کے الفاظ جو عروہ ہی سے منقول ہیں؛ یہ ہیں: وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفَلَانَ بِعُمْرَةٍ قَطَّ فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا۔یعنی میری والده (حضرت اسماھ) نے مجھے بتایا کہ وہ اور ان کی بہن حضرت عائشہ اور حضرت زبیر اور فلاں فلاں عمرہ کے لئے کبھی آئے تو جب رکن کا مسح کر چکے احرام کھول دیئے۔یہ وہ لمبی روایت ہے جس کی توضیح و تشریح دوسری مستند روایتوں کی مدد سے کرنا (مسلم، کتاب الحج، باب مايلزم من طاف بالبيت وسعى من البقاء على الاحرام وترك التحلل)