صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 290
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۹۰ ٢٥ - كتاب الحج عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے عَنْهُمَا قَالَ طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيْرٍ كُلَّمَا أَتَى انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا۔ جب آپ حجر اسود کے عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ۔ اطرافه: ١٦٠٧، ١٦١٣، ١٦٣٢، ٥٢٩٣۔ سامنے آتے تو آپ اس کی طرف اشارہ کرتے ۔ تشريح : مَنْ أَشَارَ إِلَى الرُّكْنِ إِذَا أَتَى عَلَيْهِ: آج کل بوقت طواف ہاتھ سے اشارہ کیا جاتا ہے اور یہ بھی جائز ہے۔ (اس تعلق میں دیکھئے تشریح باب ۵۸) بَاب ٦٢ : التَّكْبِيرُ عِنْدَ الرُّكْنِ حجر اسود کے پاس اللہ اکبر کہنا ١٦١٣ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدُ :۱۶۱۳ مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) خالد ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ بن عبد الله ( طحان ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّه خالد حذاء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ عَنْهُمَا قَالَ طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ رحد سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيْرٍ كُلَّمَا أَتَى اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا۔ جب آپ ہوکر الرُّكْنَ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ كَانَ عِنْدَهُ حجر اسود کے پاس آتے تو آپ اس کی طرف کسی چیز وَكَبَّرَ ۔ تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ سے جو آپ کے پاس تھی؛ اشارہ کر کے اللہ اکبر خَالِدٍ الْحَذَّاءِ۔ اطرافه: ١٦٠٧، ١٦١٢، ١٦٣٢، ٥٢٩٣ کہتے ۔ خالد طحان کی طرح ابراہیم بن طہمان نے خالد حذاء سے روایت کی ۔ تشريح : أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ كَانَ عِندَهُ وَكبر حولہ بالا روایت سےظاہر ہے کہ اشارہ کرنا اوراللہ کبر کہنا جائز ہے۔ اول الذکر مسئلہ سے متعلق امام مالک کی رائے باب ۵۸ کی تشریح میں گزر چکی ہے۔ اس تکبیر کو بھی بعض فقہاء نے سنت قرار دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جس تکبیر کا ذکر روایت نمبر ۱۶۱۳ میں ہے وہ حج