صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 289 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 289

صحيح البخاري - جلد۳ ۲۸۹ ٢٥- كتاب الحج قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرَبْرِيُّ دیکھا ہے۔{ ( اور ) محمد بن یوسف فربری نے کہا: میں وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ نے ابو جعفر بن ابی حاتم ) کی کتاب میں ( یہ لکھا ہوا) أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرُ بْنُ عَدِي كُوْفِيٌّ دیکھا۔ابو عبد اللہ نے کہا کہ زبیر بن عدی کوفہ کے رہنے وَالزُّبَيْرُ بْنُ عَرَبِيٌّ بَصَرِيٌّ۔* } والے ہیں اور زبیر بن عربی بصرہ کے رہنے والے کیم اطرافه: ١٦٠٦۔تشریح: يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبلُهُ : استلام کے معنی چھونا۔سلام سے مشتق ہے۔سلامتی کی دعا دیتے وقت ہاتھ صلى الله سے اشارہ کیا جاتا ہے۔تقبیل کے معنی ہیں بوسہ دینا۔باب نمبر ۵۶ کا عنوان استلام سے قائم کیا گیا ہے۔روایت نمبر ۱۶۱۰،۱۶۰۵ کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ حجر اسود ہاتھ سے چھوا بھی جاتا اور چوما بھی جاتا۔روایت نمبر ۱۶۱۱ کے الفاظ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبلُهُ سے واضح ہے کہ استلام اور تقبیل میں فرق ہے۔یہی فرق واضح کرنے کے لئے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔رکن یمانی کو چھوا یا اس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔مگر حجر اسود کو اگر ہو سکے تو ضرور بوسہ دیا جائے۔چونکہ طواف کے پھیروں میں یہ امر مشکل ہے؛ اس لئے جب کوئی حجر اسود کے مقابل آئے تو اس کو بھی ہاتھ سے اشارہ کر سکتا ہے۔کیونکہ طواف کی گزرگاہ اور بیت اللہ کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا گیا ہے۔اگر بیت اللہ کے اندر جانے کا موقع ملے تو حجر اسود کو ہاتھ سے چھونا اور بوسہ دینا سنت نبوی ہے۔أَرَأَيْتَ إِنْ غُلِبْتُ : یعنی اگر لوگ دھکے دیں اور آگے نہ جانے دیں تو پھر کیا کیا جائے؟ اس پر حضرت عبداللہ بن عمر اس لئے جھنجلائے کہ مخلص انسان دھکوں کی پرواہ نہیں کرتا۔وہ ضرور اپنا راستہ نکال لیتا ہے اور پھر اگر امکان نہیں تو شریعت تکلیف مالا يطاق میں نہیں ڈالتی۔اس لیے ایسے سوال کر کے عذرات کا دروازہ نہیں کھولنا چاہیے۔روایت نمبر ۱ ۱۶۱ کے آخر میں محمد بن یوسف فربری کے حوالہ سے ایک تصحیح کی گئی ہے۔ابو جعفر محمد بن ابی حاتم وراق امام بخاری کے نقل نو لیس تھے۔فربری کے ایک شاگردا بواحمد جرجانی نے روایت نمبر ۱۶ میں راوی کا نام زبیر بن عدی نقل کیا ہے جو سیج نہیں۔یہ اور شخص ہے جو کوفہ کا باشندہ تھا۔بَاب ٦١ : مَنْ أَشَارَ إِلَى الرُّكْنِ إِذَا أَتَى عَلَيْهِ جو حجر اسود کو اشارہ کرے جب اس کے بالمقابل آئے ١٦١٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۱۶۱۲ محمد بن منی نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عبد الوہاب نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) خالد ( حذاء) یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۶۰۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔