صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 287 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 287

صحيح البخاری جلد۳ ۲۸۷ ٢٥- كتاب الحج يَسْتَلِمُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْيَمَانِيَيْنِ۔کو نہیں دیکھا کہ آپ بیت اللہ میں سواد و یمنی ستونوں کے کسی اور کو بھی چومتے ہوں۔اطرافه: 166، 1514، ١٥٥٢، ٢٨٦٥، ٥٨٥١۔تشريح : مَنْ لَّمْ يَسْتَلِمُ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ: بیت اللَّه کے جنوبی کونوں کواس وجہ سےرکن یمانی کہتے ہیں کہ یمن مکہ مکرمہ کے جنوب میں واقعہ ہے اور شمالی کونوں کورکن شامی۔شام مکہ مکرمہ کے شمال میں واقع ہے۔جنوب مشرقی زاویہ میں حجر اسود باہر کی طرف دیوار میں پیوست ہے۔اس لئے اس زاویہ کورکن اسود بھی کہتے ہیں۔دونوں رکن یمانی ابراہیمی بنیاد پر واقع ہیں مگر رکن شامی اصل بنیاد سے ہٹ کر بنائے گئے تھے۔جس سے بیت اللہ کے جانب شمال کچھ جگہ بیچ رہی ہے۔اس حصہ کو حطیم کہتے ہیں۔طواف بیت اللہ میں حطیم شامل کر لیا جاتا ہے اور دوران طواف یمانی رکنوں کے قریب گزرتے ہوئے پیمانی دور کن چھوئے جاتے ہیں مگر شامی رکن اصل بنیاد پر نہ ہونے کی وجہ سے نہیں چھوئے جاتے۔روایت نمبر ۱۶۰۸ اسے ظاہر ہے کہ معاویہ اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے شامی رکنوں کو بھی چھوا۔حضرت ابن زبیر نے بیت اللہ کو گرا کر اسے اصل بنیادوں پر قائم کیا تھا۔( روایت نمبر ۱۵۸۶) اس لئے ان کے چھونے سے متعلق تو توجیہہ ہوسکتی ہے مگر معاویہ کے فعل سے بظاہر کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی سوا اس کے کہ یہ ان کا اجتہاد سمجھا جائے۔جن فقہاء نے چاروں رکنوں کو چھونے کی نسبت فتویٰ دیا ہے وہ حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے استدلال کرتے ہیں۔ان کا قول ہے: كُنَّا نَرَى إِذَا طَفْنَا أَنْ نَسْتَلِمَ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا۔بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في الطواف بالبيت والكلام في صفته ہم یہی سمجھتے تھے کہ طواف کے وقت تمام ارکان کا استلام کریں۔مگر یہ قول حجت نہیں ہوسکتا۔روایت میں ان کے سابقہ خیال اور عمل کا ذکر کیا گیا ہے۔تقبیل و استلام اور طواف میں جو امور ضروری ہیں وہ ذکر الہی اور دعائیں ہیں۔(الحج: ۳۵ تا ۳۸) ورنہ یہ امور صرف ظاہری علامتیں ہیں۔اظہار محبت و عشق کی یہ اصلی روح ہے ارکان حج و عمرہ میں۔(اس تعلق میں دیکھئے کتاب الحج تشریح باب ۴) اس باب میں پہلے تین حوالے منقول ہیں۔(زیر روایت نمبر ۱۶۰۸) پہلا حوالہ جابر بن زید ابوالشعشاء کا ہے: وَمَنْ يَتَّقِى شَيْئًا مِنَ الْبَيْتِ؟ يہ استفہام انکاری ہے۔یعنی بیت اللہ کے کسی حصے کو چومنے سے کوئی پر ہیز نہیں کرے گا۔دوسرا حوالہ امام احمد بن حنبل لے نے بھی موصولاً بجائے ابوالشعشاء کے ابوطفیل سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس اور معاویہ کے ساتھ حج کیا تو معاویہ شامی رکنوں کو بھی چومتے تھے۔حضرت ابن عباس نے ان سے کہا کہ انہیں نہیں چھوا جاتا۔تیسرا حوالہ ابن ابی شیبہ نے عباد بن عبد اللہ بن زبیر سے اور امام مالک سے نے عروہ بن زبیر سے نقل کیا ہے کہ وہ جب (مسند احمد بن حنبل ، مسند بنی هاشم مسند ابن عباس جزء اول صفحه ۳۳۲) (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الحج، باب فيما يسم من الأركان ، روایت نمبر ۱۴۹۹۵) مؤطا امام مالک، کتاب الحج، باب الاستلام في الطواف) ا