صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 286
صحيح البخاری جلد۳ MAY ٢٥ - كتاب الحج لفظ استلام کے معنی بھی مطلق چھونا ہے۔دیکھئے تشریح باب ۶۰۔تَابَعَهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ : روایت کے آخر میں جس متابعت کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرِ کے الفاظ نہیں باقی الفاظ ہیں۔اسی واقعہ کی بعض دیگر روایات مثلالیف وغیرہ کی روایت میں عبید اللہ راوی کا ذکر نہیں بلکہ ابن شہاب کے بعد عَنِ ابْنِ عَبَّاس ہے۔اس اختلاف کے پیش نظر عبد العزیز در اور دگی کی روایت کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔جس میں عبید اللہ کے واسطے کا ذکر موجود ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۵۹۶) بَاب ٥٩ : مَنْ لَّمْ يَسْتَلِمْ إِنَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ جس نے صرف دو یمانی رکنوں کو ہی چھوا ١٦٠٨: وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ :۱۲۰۸ اور محمد بن بکر نے کہا: ہمیں ابن جریج نے أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ بتایا کہ عمرو بن دینار نے ابو شعثاء سے روایت کرتے دِينَارٍ عَنْ أَبِي الشَّعْشَاءِ أَنَّهُ قَالَ وَمَنْ ہوئے مجھے بتایا۔انہوں نے کہا: کعبہ کی کسی چیز سے يَتَّقِي شَيْئًا مِّنَ الْبَيْتِ وَكَانَ مُعَاوِيَةُ کون پر ہیز کرتا ہے۔(سب چیزیں قابل بوسہ ہیں ) يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسِ اور معاویہ ( چاروں ) ستونوں کو چومتے تھے تو حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّهُ لَا يُسْتَلَمُ * هَذَانِ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: ہم ان دو ستونوں ( یعنی شامی اور عراقی ) کو نہیں چوما کرتے تو الرُّكْنَانِ فَقَالَ لَيْسَ شَيْءٌ مِّنَ الْبَيْتِ معاویہؓ نے (ان سے) کہا: بیت اللہ کی کوئی ایسی چیز مَهْجُوْرًا وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ نہیں جو چھوڑی جائے۔اور حضرت (عبد اللہ بن زبیر عَنْهُمَا يَسْتَلِمُهُنَّ كُلَّهُنَّ۔رضی اللہ عنہما سبھی کو چومتے تھے۔١٦٠٩ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۱۶۰۹: ابوالولید (طیالسی) نے ہم سے بیان کیا کہ لَيْتْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ ليث بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سے ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ سے، سالم نے لَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنے باپ (حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے الفاظ لَا يُسْتَلَمُ هَذَانِ الرُّحْنَانِ کی بجائے فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں الفاظ لَا نَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ ہیں۔(فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۵۹۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔