صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 285 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 285

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۸۵ باب ٥٨ : اسْتِلَامُ الرُّكْنِ بِالْمِحْجَنِ حجر اسود کو چھڑی سے چھونا ٢٥-كتاب الحج ١٦٠٧ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ۱۶۰۷: احمد بن صالح اور یحی بن سلیمان نے ہم سے وَيَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ بیان کیا۔ان دونوں نے کہا: (عبداللہ ) بن وہب نے وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: یونس نے مجھے بتایا۔شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْن عَبْدِ اللَّهِ عَن انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ طَافَ عبداللہ سے عبید اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے حجۃ الوداع النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ میں (اپنے) اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا۔آپ حجر اسود الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيْرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ کو ایک چھڑی کے ذریعہ سے چھوتے۔یونس کی طرح بِمِحْجَنِ۔تَابَعَهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنِ ابْنِ ( عبد العزیز ) در اوردی نے بھی یہ بات کہی۔انہوں نے أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمِهِ۔اطرافه ١٦١٢، ١٦١٣، ١٦٣٢، ٥٢٩٣۔زہری کے بھتیجے سے روایت کی۔انہوں نے اپنے چچا ہے۔اِسْتِلَامُ الرُّكُنِ بِالْمِحْجَنِ : جس واقعہ کی بنا پر باب ۵۸ قائم کیا گیا ہے وہ حجتہ الوداع کا واقعہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کرتے وقت حجر اسود کو چھڑی سے چھوا۔ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیمار تھے۔طواف کرنے کے بعد اونٹنی کو بٹھایا اور دو رکعتیں ادا کیں۔(ابو داؤد، کتاب المناسک، باب الطواف الواجب) اس بناء پر امام مالک و امام ابو حنیفہ کی رائے میں بوجہ عذرا اگر سواری پر طواف کیا جائے تو یہ جائز ہو گا ورنہ نہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۲۵۳) بعض روایتوں میں آتا ہے کہ حجتہ الوداع میں کثرت ازدحام کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوسوار ہونا پڑا۔تا آپ کو شائقین دیدار دیکھ سکیں اور آپ کو ہجوم کے ریلے سے تکلیف نہ پہنچے۔(عمدۃ القاری جزء 9 صفحہ ۲۵۳) جمہور کا مذہب حجر اسود کے بارے میں یہ ہے کہ اسے ہاتھ سے چھو کر ہاتھ کو بوسہ دیا جائے اور اگر ہاتھ سے نہ چھو سکے تو چھڑی کو چھو کر اس چھٹڑی کو بوسہ دیا جائے۔اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو اشارہ ہی کافی ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۵۹۷) امام مالک نے جمہور کے مذہب سے اتفاق نہیں کیا۔ان کے نزدیک ہاتھ وغیرہ کو بوسہ دینے کی ضرورت نہیں۔اگر حجر اسود کو بوسہ نہ دے سکے تو ہاتھ وغیرہ سے اشارہ کرنا ہی کافی ہے۔اگر یہ بھی نہ کرے تو کوئی حرج نہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۲۵۳) ( فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۵۹۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حجر اسود کو چھڑی سے چھونا بتا تا ہے کہ چومنا فرض نہیں بلکہ سنت ہے۔دیکھئے تشریح باب ۵۶۔