صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 284
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۸۴ ٢٥ - كتاب الحج کا وارث بنایا جانا۔یہ دونوں باتیں واقعہ میں ظہور ہو کر رو کر دہ کونے والے پتھر کی ماہیت از خود ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ کونے کا پتھر کیسا مبارک تھا اور کس طرح آسمانی بادشاہت میں ہمیشہ ہمیش کے لئے بطور علامت ٹھہرا۔حضرت دانیال علیہ السلام کی پیشگوئی مندرجہ باب ۲ آیت ۴۴ ، ۴۵ میں بھی اس خارق عادت پتھر کی وضاحت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑ سے ہاتھوں کے بغیر کانا گیا اور وہ تمام دنیاوی مملکتوں کو پیس ڈالے گا اور اس سے ایک ابدی بادشاہت کی بنیاد قائم ہوگی۔حضرت یسعیاہ علیہ السلام نے اس کونے کے پتھر کو ابتلاء اور آزمائش کا پتھر قرار دیا ہے۔فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے اپنا عہد و میثاق توڑ ڈالا اور ان کو سزا دی جائے گی۔ایک پتھر بنیاد کے لئے رکھا جائے گا۔آزمودہ پتھر محکم بنیاد کے لئے کونے کے سرے کا پتھر جو اس پر ایمان لائے گا قائم رہے گا اور بنی اسرائیل کا عہد منسوخ ہو جائے گا۔(یسعیاہ باب ۲۸ آیت ۱۶ تا ۱۸) اور پھر اپنی ایک دوسری پیشگوئی میں قیدار کی سرزمین کو اس عظیم الشان انقلاب کے لئے مخصوص فرمایا ہے۔(یسعیاہ باب ۲۱ آیت ۱۱ تا ۱۷ باب ۶۰ آیت ۷۰۶) اور بے کس ہاجرہ کی اولاد کو بانجھ قرار دیتے ہوئے ان کو جننے اور ابدی عہد اور امتوں کا پیشوا اور فرمانروا بنائے جانے کی بشارت دی ہے اور اس میں حضرت داؤد علیہ السلام کی پیشگوئی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔(زبور باب ۱۱۸ آیت ۲۲) کونے کے پتھر سے وابستہ عظیم الشان پیشگوئی کو حضرت حجی نبی علیہ السلام نے اور زیادہ واضح کیا ہے۔وادی مکہ سے پیدا ہونے والے نبی کو سب قوموں کا محمدوث ( محمد ) قرار دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ اس کے آنے پر سب قومیں ہلائی جائیں گی۔زمین و آسمان میں انقلاب واقع ہوگا اور بیت اللہ بزرگی سے بھر دیا جائے گا۔اس آخری گھر کی بزرگی پہلے گھر کی بزرگی سے بہت بڑی ہوگی۔(بائبل حجی باب ۲ آیت ۹ ) اور اس جگہ کو سلامتی دی جائے گی۔غرض حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشگوئی کا سلسلہ لمبا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انبیاء کی ہم معنی پیشگوئیاں پیہم و پیوستہ ہیں۔سو وہ مہتم بالشان پیشگوئی ہے جو ایک زاویہ کے پتھر حجر اسود اور سلامتی و بزرگی کے آخری گھر سے وابستہ ہے۔جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں سے قائم ہوئی اور پھر تکمیل سید نا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فَكُنتُ أَنَا تِلْكَ اللَّبِنَةَ فرماتے ہوئے اپنے آپ کو اسی کونے کے پتھر کا مصداق ٹھہرایا ہے۔(بخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النبيين، روایت نمبر ۳۵۳۵) (مسلم، کتاب الفضائل، باب ذكر كونه الله خاتم النبيين) اس عظیم الشان عہد خداوندی کے نشان کی عظمت کی وجہ سے اس کو عزت و اکرام کی نظر سے دیکھا اور بوسہ دیا جاتا ہے۔تجلیات الہیہ کا یہ ایک ایسا حیرت انگیز نشان ہے جسے زمانہ نہیں مٹا سکتا۔اس کے پس پردہ خدائے قدوس کی اپنے ایک بندہ سے راز و نیاز اور گفت وشنید، حضرت ابراہیم کی صحرانوردی، آپ کے تکمیل مقاصد میں بیوی بیٹے کی پوری موافقت اور حضرت ہاجرہ کی ہجرت اور کوہ پیمائی کی عجیب و غریب داستان کا کرشمہ پنہاں و کارفرما ہے جو غور کرنے والوں کے ایمان کو تازہ کرتا ہے۔اس ضمن میں تشریح باب ۴۰-۴۲ و ۶۰ بھی ملاحظہ ہو۔