صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 14 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 14

صحيح البخاری جلد۳ ۱۴ ٢٤ - كتاب الزكاة پر اخلاق رزیلہ چوری ، جھوٹ ، فریب دہی وغیرہ کی طرف راغب نہیں ہوتے۔یہ پست اخلاق فقر و فاقہ کا نتیجہ ہیں۔جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا (مسند الشهاب الباب الثالث الجزء الخامس،باب كاد الفقر ان يكون كفرا، روایت نمبر ۵۸۶) لفظ کفر جامع ہے اور اس میں بد اعتقادی اور بدخلقی دونوں شامل ہیں۔اجتماعی تزکیہ جو نظام زکوۃ سے معاشرے کو حاصل ہوتا ہے، اس کی صورت بھی واضح ہے کہ اس سے قوم میں اقتصادی نشیب وفراز ہموار کرنے کے مواقع بہم پہنچائے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں خود دولت کا تزکیہ بھی تین طرح ہوتا ہے۔اول: ذخیرہ اندوزی کا میلان جو دولت اور دولت مندوں میں ہے اس کی روک تھام ہوتی ہے۔دوم : زکوۃ بے کار دولت کو کار آمد مصرف میں لانے کے لئے بطور مہمیز ہے جس سے افزائش دولت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔سوم: غریب طبقے کے افراد کی ابتدائی ضروریات جب مہیا ہوں گی تو وہ کسب معاش کے لائق ہو کر ملک کی مجموعی دولت بڑھانے کا موجب ہوں گے۔لیکن وہ قوم جس کی اکثریت بھوکی ہنگی، بیمار، جاہل اور جہیدست ہے اور جس کی قدرت پیداوار محدود؛ وہ معاشرے کے لئے مفید ہونا تو کیا خود اپنے آپ کو بھی نہیں سنبھال سکتی۔غرض زکوۃ اپنے وسیع معانی کے لحاظ سے معاشرے کے لئے بہت سی برکتوں کا موجب ہوتی ہے۔اس لئے اسلام نے اس رکن کو بطور ایک فرض لازمی قرار دیا ہے۔زکوۃ اس لحاظ سے بھی انسان کے روحانی تزکیہ اور ترقی کا باعث ہے کہ جب محض رضاء الہی کی خاطر ادا کی جائے تو تعلق باللہ پیدا ہوگا جو گناہ سے بچائے گا۔کیونکہ اسی تعلق میں انسان کے روحانی معراج کی تکمیل ہے۔عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ : افراد امت کی سلامتی کا دارومدار حقوق کی ادائیگی ہی پر ہے۔جس طرح ٹیکس کی عدم ادائیگی بغاوت اور مستوجب سزا ہے۔اسی طرح زکوۃ کی عدم ادائیگی بھی۔حضرت عمر نے پہلے حضرت ابوبکر سے اتفاق نہیں کیا۔مگر جب إِلَّا بِحَقِّہ کے الفاظ سے اُن کا استدلال سنا تو اُن کی رائے تسلیم کی۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ صرف زبان سے لا الہ الا اللہ کہ دینا عمل صالح نہ ہونے کی حالت میں قطعا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔(اس ضمن میں دیکھئے تشریح روایات نمبر ۲۲ ۲۵ ۲۶ ۴۳۲۷، ۴۹) اس تعلق میں کتاب الایمان روایت نمبر ۲۵ زیر باب ۱۷ خاص طور پر قابل توجہ ہے۔اس باب کا عنوان یہ آیت ہے: فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكَوةَ فَخَلُّوْا سَبِيْلَهُمْ (التوبة: ۵) اس صورت میں مذکورہ بالا آیت کا مضمون دہراتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَآتَوُا الزَّكَوةَ فَإِخْوَانُكُمُ فِي الدِّينِ۔(التوبة (11) یعنی اگر توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ان سے تعرض نہ کیا جائے۔ان الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ ان تین باتوں میں سے کوئی ایک بات ترک کرنے والا مسلمان نہیں۔اسلام کے پانچوں ارکان کی پابندی فرض ہے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی إِلَّا بِحقه فرما کر انفاق فی سبیل اللہ کو معاشرہ کے کمزور طبقے کا حق قرار دیا ہے۔(دیکھئے کتاب الزکوۃ باب نمبر (۴۸) یعنی ذی استطاعت لوگوں کا فرض ہے کہ احکام اسلامی کی پابندی کریں اور جو مالی حق ان پر عائد کیا گیا ہے وہ ادا کریں۔اس صورت میں ان کے حقوق بھی محفوظ رہیں گے۔