صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 283
صحيح البخاری جلد۳ تشریح: ۲۸۳ ٢٥- كتاب الحج اَلرَّمَلُ فِى الْحَجّ وَالْعُمْرَةِ: اس باب میں تین روایتیں ہیں۔پہلی روایت حضرت ابن عمر کی ہے جو موقوف ہے۔مگر گیٹ کی سند کا حوالہ دے کر اسے موصول ثابت کیا ہے۔نسائی اور بیہقی نے لیٹ کی یہ روایت نقل کی ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَحُبُّ فِي طَوَافِهِ حِيْنَ يَقْدَمُ فِي حَجَّ أَوْ عُمْرَةٍ ثَلَاثًا وَيَمْشِي أَرْبَعًا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ لا يَفْعَلُ ذَلِكَ۔(نسائی، کتاب مناسک الحج، باب الرمل في الحج والعمرة) (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الحج، باب الرمل في الطواف في الحج والعمرة، روایت نمبر ۹۰۵۳، جزء ۵ صفحه ۸۱) یعنی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اپنے طواف میں تین بار دوڑتے اور چار بار عام چال سے چلتے۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔یہی مضمون تیسری روایت میں جو مسدد سے منقول ہے دہرایا گیا ہے۔اس کی صحت واضح ہے۔دوسری روایت جو حضرت عمر سے متعلق مروی ہے، اس سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔یعنی یہ کہ رمل کی ضرورت تو نہیں معلوم ہوتی مگر (شَيْءٌ صَنَعَهُ النَّبِيُّ الله فَلَا نُحِبُّ أَنْ نتركه) محبت کا یہ تقاضا نہیں کہ جو بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو؛ اسے ہم چھوڑ دیں۔حج کے تمام ارکان در حقیقت جذبات محبت و عشق کے مظاہرات ہیں۔احرام اور تلبیہ کے بعد مکہ مکرمہ میں پہنچ کر ارکان حج شروع کرنے سے قبل حجر اسود کو چوما یا چھوا جاتا ہے ، بیت اللہ کا طواف کیا جاتا ہے۔یہ سب ظاہری علامتیں ہیں۔حجر اسود بن گھڑا ایک سیاہ پتھر ہے جو پونے تین ہاتھ زمین سے اونچا ہے اور بیت اللہ کے دروازے سے قریب مشرقی کونے کی بنیاد میں پیوست کیا ہوا ہے۔تو رات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد نے جہاں بھی خارق عادت ربانی تجلی مشاہدہ کی، وہیں انہوں نے بن گھڑے پتھر نصب کر کے خداوند کے لئے ایک نشان قائم کر دیا تھا۔( پیدائش باب ۱۲ آیت ۷، ۹،۸، باب ۱۳ آیت ۱۸، باب ۳۵ آیت ۱۵، یشوع باب ۴ آیت ۷ وادی مکہ میں واقع بیت اللہ میں بھی ایک پتھر ہے جسے اہل عرب کی روایات حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتی ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام یوروشلم کی تباہی اور آسمانی بادشاہت کے بنی اسرائیل سے چھینا جانے اور ایک دوسری قوم کو اس کے دئے جانے کی پیشگوئی میں ایک پتھر کا ذکر فرماتے ہیں کہ معماروں نے اسے رد کیا تھا مگر وہی کونے کا پتھر ٹھہرا۔جس پر وہ گرے گا اسے چکنا چور کر دے گا اور جو اس پر گر اوہ چکنا چور ہو گا۔( متی باب ۲۱ آیت ۳۳ تا ۴۲) یہ کونے کا پتھر جسے معماروں نے ردی شئے سمجھا تھا وہی پتھر ہے جو وادی مکہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے مبارک ہاتھوں سے بیت اللہ کے لئے کونے کا پتھر بنا۔سے حسب معمول خداوند کے عہد کی یادگار کے طور پر وہاں رکھا گیا۔یہود فن استعار وتعمیر میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور عربوں کو ایک حقیر قوم سمجھتے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے محولہ بالا پیشگوئی کی تشریح کے ضمن میں اس کونے کے پتھر سے متعلق حضرت داؤد علیہ السلام کی پیشگوئی کا حوالہ دیا ہے۔(زبور - باب ۱۱۸، آیت ۲۲) اس پیشگوئی میں خداوند کے نام پر آنے والے مبارک شخص کی خوشخبری دی گئی ہے اور اس کا آنا خارق عادت اور عجیب قرار دیا گیا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے اسی داؤدی پیشگوئی کا حوالہ دے کر اسے واضح فرمایا ہے۔چنانچہ بنی اسرائیل سے آسمانی بادشاہت چھینا جانا اور دوسری قوم کو اس