صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 282 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 282

صحيح البخاري - جلد۳ PAY ٢٥- كتاب الحج ١٦٠٥ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ :۱۶۰۵ سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ) کہا : ( محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ زید بن اسلم نے مجھے بتایا اور انہوں نے اپنے باپ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِلرُّكْن سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( دوران طواف) حجر اسود کو مخاطب کر کے کہا: اللہ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ کی قسم ! میں تو جانتا ہوں کہ تو تو ایک پتھر ہے۔نہ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى نقصان دے سکتا ہے اور نہ نفع اور اگر میں نے نبی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَلَمَكَ مَا صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ آپ نے تجھے بوسہ اسْتَلَمْتُكَ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ قَالَ فَمَا لَنَا دیا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔یہ کہہ کر انہوں نے وَلِلرَّمَل إِنَّمَا كُنَّا رَاعَيْنَا بِهِ الْمُشْرِكِيْنَ اسے چوما۔پھر اس کے بعد کہا: اب ہمیں (طواف میں ) وَقَدْ أَهْلَكَهُمُ اللهُ ثُمَّ قَالَ شَيْءٍ صَنَعَهُ فوجی انداز سے چلنے کی کیا ضرورت ہے۔ہم نے تو یہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نُحِبُّ مشرکوں کو دکھانا تھا۔اب تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کر أَنْ نَّتْرُكَهُ۔دیا ہے۔پھر کہنے لگے: وہ بات جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اطرافه: ١٥٩٧، ١٦١٠۔رَخَاءٍ مُنْذُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کی تھی ، ہمیں پسند نہیں کہ ہم اسے چھوڑ دیں۔١٦٠٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۶۰۶ مدد نے ہم سے بیان کیا جی نے ہمیں بتایا۔يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ انہوں نے عبید اللہ ( عمری) سے عبید اللہ نے نافع سے، عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ مَا تَرَكْتُ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فِي شِدَّةٍ وَلَا انہوں نے کہا کہ میں نے حجر اسود اور رکن یمانی کا چومنا نہ تکلیف میں چھوڑا اور نہ آرام میں؛ جب سے کہ میں نے نبی علہ کو ان دونوں کو چومتے دیکھا۔(عبید اللہ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا قُلْتُ أَكَانَ نے کہا: میں نے نافع سے پوچھا: کیا حضرت ابن عمر ابْنُ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ قَالَ إِنَّمَا دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسب معمول چلتے كَانَ يَمْشِي لِيَكُوْنَ أَيْسَرَ لِاسْتِلَامِهِ۔تھے ؟ انہوں نے جواب دیا: صرف اس لئے معمولی چال چلتے تھے کہ اس کے چومنے میں آسانی ہو۔اطرافه: ١٦١١۔لِنَافع