صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 281
صحيح البخاری جلد۳ ۲۸۱ ٢٥- كتاب الحج صلى الله ان گھروں کی محبت نے میرے دل کو چھلنی نہیں کیا بلکہ مکین کی محبت نے۔یہی وہ جذبہ عشق ہے جس نے حضرت عمر کی زبان سے یہ فقرہ نکلوایا: إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَو لَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ لا يُقَتِلُكَ مَا قبلنگ ( روایت نمبر ۱۵۹۷) یہی نہیں کہ اس چومنے میں شرک کا شائبہ پایا جاتا ہے۔روزانہ والدین اپنے بچوں کو جذبہ محبت سے چومتے ہیں مگر ان کا چومنا شرک نہیں۔حضرت عمر نے مذکورہ بالا فقرہ سے احتمال شرک دور کیا ہے اور اس عاشقانہ جذبہ کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس فعل کا اصل باعث ہے۔عاشق صادق کی نظر میں اس سے بڑھ کر اور کوئی معقول وجہ نہیں کہ اس کا تعلق کسی نہ کسی طرح اس کے معشوق کے ساتھ ہو۔اسے اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔امام بخاری نے ایک ہی بات میں حجر اسود کو چومنے اور فوجی چال سے دوڑنے کے معنوں کو جمع کر کے ان کی ایک ہی ماہیت کی طرف توجہ منعطف کی ہے اور اس طرح ان فقہاء ( طاؤس ، عطاء اور حسن بصری وغیرہ) کو جواب دیا ہے جو رل کو سنت نہیں سمجھتے۔ائمہ اربعہ نے اسے سنت قرار دیا ہے۔(عمدۃ القاری شرح باب ، جزء ۹ صفحه ۲۴۹) ( بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في الطواف بالبيت ) اگلے باب میں امام موصوف نے فریق اول کو ایک اور جواب دیا ہے کہ اگر رمل وقتی بات تھی تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں دل کیوں کیا۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۶۰۴) بَاب ٥٧ : اَلرَّمَلُ فِي الْحَجَ وَالْعُمْرَةِ в حج اور عمرہ میں فوجی انداز سے چلنا ١٦٠٤: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا :۱۶۰۴ محمد بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا، سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا فَلَيْحٌ عَنْ ) کہا :) سُریج بن نعمان نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِلیح نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے قَالَ سَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ وَمَشَى أَرْبَعَةً فِي الْحَجِّ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج اور عمرہ میں تین وَالْعُمْرَةِ۔تَابَعَهُ اللَّيْتُ قَالَ حَدَّثَنِي پھیرے دوڑ کر چلے اور چار پھیرے معمولی چال ہے۔كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ عَنْ نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ سری کی طرح لیث نے بھی یہی بات روایت کی ، کہا: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله كثير بن فرقد نے مجھے بتایا۔انہوں نے نافع سے، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔اطرافه: ١٦٠٣، ١٦١٦، ١٦١٧، ١٦٤٤ -