صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 280
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۸۰ باب ٥٦ : اِسْتِلَامُ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ حِيْنَ يَقْدَمُ مَكَّةَ أَوَّلَ مَا يَطُوْفُ وَيَرْمُلُ ثَلَاثًا ٢٥ - كتاب الحج جب مکہ میں آئے تو طواف کرنے سے پہلے حجر اسود کو چھونا اور تین پھیرے فوجی انداز سے چلے ١٦٠٣: حَدَّثَنَا أَصْبَعُ بْنُ الْفَرَجِ ۱۶۰۳: اصبغ بن فرج نے ہم سے بیان کیا، (کہا: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ عبد الله ) بن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یونس شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللهُ سے، یونس نے ابن شہاب (زہری) سے، زہری نے عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ سالم سے ، سالم نے اپنے باپ (حضرت عبداللہ بن عمر ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ يَقْدَمُ مَكَّةَ إِذَا إِذَا اسْتَلَمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ جب آپ مکہ میں الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ أَوَّلَ مَا يَطُوْفُ يَخُبُّ آتے تو طواف شروع کرنے سے پہلے حجر اسود کو ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ۔ چھوتے۔ سات پھیروں میں سے تین پھیرے فوجی چال سے چل کر طے کرتے ۔ اطرافه: ١٦٠٤، ١٦١٦، ١٦١٧، ١٦٤٤ تشريح : اسْتِلَامُ الْحَجَرِ وَيَرْمُلُ ثَلَاثًا: اس باب میں دوعون ہیں۔ ایک مصدر یہ کھا گیا ہے۔ اس وجہ سے کہ حجر اسود کو چومنا یا چھونا دونوں جائز ہیں۔ ئز ہیں۔ لیکن دوسرے عنوان سے ظاہر ہے کہ امام بخاری کے نزدیک پہلے تین پھیرے فوجی چال سے چلنا واجب العمل سنت ہے۔ حجر اسود چومنے سے متعلق حضرت عمرؓ کا قول روایت نمبر ۱۵۹۷ میں گزر چکا ہے۔ اس قول سے ظاہر ہے کہ اس چومنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا عاشقانہ جذبہ ملحوظ رکھا گیا ہے اور یہی جذبہ رمل کے اختیار کرنے میں بھی پیش نظر رہنا چاہیے۔ اسلام نے دو قسم کی عبادتیں مقرر کی ہیں۔ ایک وہ جس میں اطاعت و ادب کا پہلو غالب ہے اور اس کا ہر رکن اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی معقول وجہ رکھتا ہے۔ جیسے نماز ، روزہ، زکوۃ ۔ اور دوسری قسم عبادت کی وہ ہے کہ جس میں اط میں اطاعت کے ساتھ عاشقانہ جذبہ غالب ہے۔ حج کے جتنے ارکان ہیں؟ ان میں اکثر یہی جذبہ محبت و عشق کام کرتا ہے۔ مجنون لیلی نے عشق کے دستور کو اپنے ایک شعر میں نہایت عمدگی سے واضح کیا ہے۔ کہتا ہے :۔ أمُرُّ عَلَى الدِّيَارِ دِيَارِ لَيْلَى أُقَبِلُ ذَا الْجِدَارَ وَذَا الْجِدَارَا وَمَا حُبُّ الدِّيَارِ شَغَفْنَ قَلْبِي وَلَكِنْ حُبُّ مَنْ سَكَنَ الدِّيَارَا المحاضرات في الأدب واللغة، اسم المؤلف ونسبه، تتمة أخرى في أحكام التسمية) یعنی لیلی کے گھروں سے گزرتا ہوں۔ کبھی اس دیوار کو چومتا ہوں اور کبھی اس دیوار کو۔ (شاید لیلی کا سایہ یہاں پڑا ہو یا وہاں )