صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 279
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۷۹ ٢٥-كتاب الحج باب ٥٥ : كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الرَّمَلِ ریل کی ابتداء کیسے ہوئی ١٦٠٢ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۱۶۰۲ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ ) کہا : ( حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب عَنْ سَعِيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ سے، ایوب نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ( مکہ میں ) آئے تو مشرک کہنے لگے: تمہارے پاس ایسے لوگ آرہے ہیں جن کو مدینہ کے بخار نے بودا (کمزور) کر دیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ طواف کے تین پھیرے سینہ اُبھار کر فوجی الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ وَأَنْ يَمْشُوا بَيْنَ چال سے چلیں اور دو ( یمانی) رکنوں کے درمیان الرُّكْنَيْنِ وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ حسب معمول۔اور آپ نے انہیں سارے پھیرے يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِبْقَاءُ فوجی چال سے چلنے کے لئے اس وجہ سے حکم نہیں دیا الْمُشْرِكُوْنَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ وَقَدْ وَهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا عَلَيْهِمْ۔اطرافه: ٤٢٥٦۔تشریح: کہ انہیں سہولت رہے۔كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الرَّمَلِ : رَمَل کے معنی سینہ ابھار کر ہاتھ اور کندھے باری باری ہلاتے ہوئے تیز چلنا۔جیسے فوجی پریڈ میں چلتے ہیں۔شوط کے معنی وہ فاصلہ جہاں تک دوڑ نا مقصود ہو اس کی آخری حد کو بھی شوط کہتے ہیں اور اس دوڑ کو بھی۔یہاں طواف مراد ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفر ۵۹۳٬۵۹۲) (لسان العرب، شوط) حج میں بیت اللہ کے سات پھیرے ہوتے ہیں۔تین تیز گام چلے جائیں اور چار معمولی چال سے صلح حدیبیہ کے بعد جو عمرہ کیا گیا تھا اسے عمرہ قضا کہتے ہیں۔صحابہ کو لاغر اندام دیکھ کر کفار مکہ کی طرف سے طعنہ دیا گیا تو آپ نے موقع محل کے تقاضا سے تیز گام چلنے کا ارشاد فرمایا۔بعد میں یہ فعل بلا ضرورت سمجھا گیا۔اس لئے ایسا چلنے یا نہ چلنے کے متعلق اختلاف ہوا ہے۔اگلا باب اسی اختلاف کو مد نظر رکھ کر باندھا گیا ہے۔