صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 278 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 278

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۷۸ ٢٥ - كتاب الحج باب ٥٤ : مَنْ كَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْكَعْبَةِ جس نے کعبہ کے کونوں میں اللہ اکبر کہا ١٦01: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۱۶۰۱: ابو معمر نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا نے ہم سے بیان کیا ۔ ( انہوں نے کہا : ) ایوب نے ہمیں عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ بتايا، ( کہا ) عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے عَنْهُمَا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلى الله جب ( مکہ میں ) آئے تو آپ نے بیت اللہ کے اندر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ جانے سے ایسی حالت میں انکار کیا کہ بت وہاں ہوں ۔ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ آپ نے ان کے نکالنے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ نکالے گئے فَأَخْرَجُوا صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ اور لوگوں نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی مورتیں فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ بھی نکالیں۔ ان کے ہاتھوں میں قرعہ ڈالنے کے تیر تھے۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَهُمُ اللهُ أَمَا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ ان مشرکوں کا ناس کرے۔ وَاللَّهِ قَدْ عَلِمُوا أَنَّهُمَا لَمْ يَسْتَقْسِمَا اللہ کی قسم ! انہیں خوب معلوم ہے کہ وہ دونوں ( یعنی ابراہیم بِهَا قَطُّ فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي اور اسماعیل ) ان تیروں کے ذریعہ سے کبھی تقسیم نہیں کرتے نَوَاحِيْهِ وَلَمْ يُصَلِّ فِيْهِ۔ تھے۔ آپ بیت اللہ میں داخل : ا داخل ہوئے اور اس کے کونوں اطرافه: ۳۹۸، ۳۳۵۱، ٣٣٥٢، ٤٢٨٨ میں اللہ اکبر کہا اور اس میں نماز نہیں پڑھی۔ تشريح : مَنْ كَبَّرَ فِي نَوَاحِي الكَعْبَة : روایت نمبر ۱۶۰ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ اس میں کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کا ذکر نہیں بلکہ اللہ اکبر کہنے کا ذکر ہے ۔ حضرت ابن عباس خود اس وقت موجود نہ تھے۔ مگر ان کی یہ روایت قبول کی گئی ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ امام ابن حجر نے بیان کی ہے؛ یہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے یہ روایت کبھی اپنے بھائی حضرت فضل نے سے اور کبھی حضرت اسامہ کے سے نقل کی ہے حضرت فضل کی موجودگی کا پستہ ایک شاذ روایت سے چلتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه (۵۹) مگر حضرت اسامہ اس موقع پر یقینا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ( روایت نمبر ۱۵۹۸) تکبیر سے متعلق ان کی روایت اسی طرح ہے جس طرح کہ حضرت بلال کی روایت نماز پڑھنے سے متعلق اس لئے دونوں روایتیں قبول کی گئی ہیں۔ باب ۵۳ و ۵۴ دونوں کو مَنْ سے قائم کر کے مسئلہ کی صورت واضح کی گئی ہے۔ یعنی دونوں باتیں مناسک حج میں سے نہیں ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند بنی هاشم، مسند الفضل بن عباس، جزء اصفحه ۲۱۰) (مسلم، کتاب الحج، باب استحباب دخول الكعبة للحاج وغيره والصلاة فيها)