صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 277
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۷۷ ٢٥-كتاب الحج بَابِ ٥٣ : مَنْ لَّمْ يَدْخُلِ الْكَعْبَةَ جو کعبہ میں داخل نہ ہو وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اکثر حج کرتے اور اندر نہ جاتے۔يَحُجُّ كَثِيرًا وَلَا يَدْخُلُ۔١٦ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدُ ۱۶۰۰ مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) خالد ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ أَبِي بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابی خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ خالد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حضرت عبداللہ بن اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابی اوفی سے روایت کی ، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کیا وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى خَلْفَ کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے ساتھ وہ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ صحابہ بھی تھے جنہوں نے آپ کو لوگوں سے اوٹ میں النَّاسِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ کر لیا تھا۔ایک شخص نے (حضرت ابن ابی اوفی) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ قَالَ لَا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں اطرافه ۱۷۹۱، ٤١۸۸، ٤٢٥٥۔داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں۔تشریح: مَنْ لَّمْ يَدْخُلِ الْكَعْبَةَ: یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا کعبہ کے اندر جانا اور اس میں دور کعتیں پڑھنا مناسک حج میں سے ہے یا نہیں۔بعض نے اسے مناسک حج میں شمار کیا ہے جو بیج نہیں۔کیونکہ فتح مکہ کے زمانہ میں حج کا کوئی موقع نہ تھا اور نہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔آپ کا اس میں داخل ہونا اور دور کعتیں پڑھنا بطور شکرانہ تھا اور روایت نمبر ۶۰۰ میں مذکورہ واقعہ کا تعلق اس عمرہ سے ہے جو صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں آپ نے دوسرے سال یعنی سات ہجری میں کیا تھا۔اس وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت تھے۔اس لئے آپ اس میں داخل نہیں ہوئے اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی۔مگر فتح مکہ کے روز وہ بت کعبہ سے نکال دیئے گئے پھر آپ اس میں داخل ہوئے۔( روایت نمبر ۱۶۰) يَحُجُّ كَثِيرًا وَلَا يَدْخُلُ : عنوان باب میں حضرت ابن عمر سے متعلق جو حوالہ نقل کیا گیا ہے وہ سفیان ثوریؒ نے اپنی جامع میں بروایت عبداللہ بن ولید علونی نقل کیا ہے۔یہ روایت امام بخاری کی گذشتہ باب میں نقل کردہ روایت نمبر ۱۵۹۹ کے بظاہر خلاف ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں: أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَی مگر یہ اختلاف دور ہو جاتا ہے اگر معنونہ حوالہ حج سے مخصوص سمجھا جائے اور ۱۵۹۹ کی روایت عام رکھی جائے۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۲۴۵، ۲۴۶) یعنی حج میں ضروری نہیں کہ بیت اللہ میں داخل ہو کر دو رکعتیں پڑھی جائیں البتہ مقام ابراہیم میں نماز پڑھنا مناسک حج میں سے ہے۔