صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 276 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 276

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۷۶ ٢٥ - كتاب الحج رکھا ہے جس سے ظاہر ہے کہ امام بخاری اس میں جمہور کے ساتھ متفق نہیں۔ اندر سے دروازہ لوگوں کے ازدحام سے بچنے اور خلوت کی غرض سے بند کیا گیا تھا جیسا کہ صلح حدیبیہ کے بعد جو عمرہ ہوا ۔ اس میں بھی لوگوں کے ازدحام سے بچانے کے لئے آپ کو اوٹ کی گئی تھی ۔ ( روایت نمبر ۱۶۰۰) روایت نمبر ۱ ۱۶۰ کا واقعہ فتح مکہ کے زمانہ کا ہے ۔ اس کی تصریح كتاب المغازی باب ۴۸ و ۵۰ میں دیکھئے۔ بَاب ٥٢ : الصَّلَاةُ فِي الْكَعْبَةِ کعبہ میں نماز پڑھنا ١٥٩٩ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۱۵۹۹ احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عبد الله بن مبارک ) نے ہمیں بتایا، (کہا: ) موسیٰ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ الله بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَى نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ قِبَلَ الْوَجْهِ حِيْنَ يَدْخُلُ وَيَجْعَلُ الْبَابَ جب کعبہ میں داخل ہوتے تو داخل ہوتے وقت قِبَلَ الظَّهْرِ يَمْشِي حَتَّى يَكُوْنَ بَيْنَهُ سیدھے چلے جاتے اور اپنی پیٹھ دروازے کے مقابل وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيبًا رکھتے۔ اتنا چلتے کہ آپ کے اور اس دیوار کے مِنْ ثَلَاثِ أَذْرُعٍ فَيُصَلِّي يَتَوَكَّی درمیان جو آپ کے منہ کے سامنے ہوئی تقریباً تین الْمَكَانَ الَّذِي أَخْبَرَهُ بِلَالٌ أَنَّ رَسُوْلَ ہاتھ کا اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيْهِ ر کا فاصلہ رہ جاتا تو آپ وہاں نماز کے لئے اس جگہ کا قصد کرتے جس سے متعلق حضرت بلال نے انہیں بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں وَلَيْسَ عَلَى أَحَدٍ بَأْسٌ أَنْ يُصَلِّيَ فِي نماز پڑھی ہے اور کہ ہے اور کسی پر کچھ قباحت نہیں کہ بیت اللہ أَيِّ نَوَاحِي الْبَيْتِ شَاءَ۔ کے جس کونے میں چاہے نماز پڑھے۔ اطرافه: ٣٩٧ ، ٤٦٨، ٥٠٤، ٥٠٥، ٥٠٦ ، ۱۱٦٧ ، ۱۵۹۸ ، ۲۹۸۸، ٤٢٨٩، ٤٤٠٠۔ تشریح : الصَّلَاةُ فِي الكَعْبَةِ: یہ بھی سابقہ مسئلہ کے ضمن میں ہی قائم کیا گیا ہے۔ روایت نمبر ۱۵۹۹ میں اس بات کی صراحت ہے کہ راحت ہے کہ کعبہ کے اندر جدھر چاہے ؛ نماز پڑھے ، خواہ فریضہ ہو یا غیر فریضہ محولہ بالا روایت میں دروازہ بند کرنے کا ذکر نہیں۔ بحالیکہ حضرت عبداللہ بن عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا غایت درجہ التزام رکھتے تھے۔