صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 275 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 275

صحيح البخاری جلد۳ ۲۷۵ ٢٥ - كتاب الحج بَاب ٥١ : إِغْلَاقُ الْبَيْتِ وَيُصَلِّي فِي أَيِّ نَوَاحِي الْبَيْتِ شَاءَ کعبہ کا دروازہ اندر سے) بند کر دینا اور بیت اللہ کے جس کونے میں چاہے نماز پڑھے ١٥٩٨: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۱۵۹۸ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَن ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ) کہا : ( ليث ( بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سَالِمٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم سے، سالم نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ وَأَسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ صلى اللہ علیہ وسلم، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ بیت اللہ میں داخل ہوئے۔انہوں نے اپنے لیے طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوْا عَلَيْهِمْ { مِنْ دَاخِلٍ} اندر سے دروازہ بند کر دیا۔جب انہوں نے فَلَمَّا فَتَحُوا كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ دروازہ کھولا تو میں پہلے تھا جو اندر گیا اور میں بلال سے فَلَقِيْتُ بِلَالا فَسَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّى فِيْهِ ملا اور ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔دو نَعَمْ بَيْنَ الْعَمُوْ دَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ۔میمنی ستونوں کے درمیان۔اطرافه: ۳۹۷، ٤٦۸، ٥٠٤، ٥٠٥، ٥٠٦، 1167، 1599، ٢۹۸۸، ٤٢٨٩، ٤٤٠٠۔تشریح: يُصَلِّي فِي أَي نَوَاحِى الْبَيْتِ شَآءَ: تذكوره بالاعنوان ایک فقہی اختلاف مدنظر رکھ کر قائم کیا گیا ہے۔قرآن مجید کے حکم فَوَلَّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (البقرة:۱۳۵) کے تحت نماز میں ضروری ہے کہ منہ بیت اللہ کی طرف ہو۔اس پر سوال اٹھایا گیا ہے: آیا بیت اللہ کے اندر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کدھر منہ کرے اور اگر چاروں طرف منہ کر سکتا ہے تو دروازہ کی طرف منہ کرنے سے بیت اللہ کا کوئی حصہ سامنے نہ ہوگا بلکہ صرف خلا ہو گا۔امام مالک کے نزدیک تو بیت اللہ اور حطیم میں نماز نہ پڑھی جائے۔نہ فرض، نہ طواف کی دو رکھتیں ، نہ وتر اور نہ صبح کی دو سنتیں۔البتہ نفل پڑھ سکتا ہے۔اگر نماز فریضہ پڑھے تو اسے اسی طرح یہ نماز دوبارہ پڑھنی چاہیے جس طرح کہ وہ نماز دوبارہ پڑھی جاتی ہے جو غلطی سے قبلہ کے سوا کسی اور طرف منہ کر کے پڑھی جائے۔امام احمد بن حنبل کی بھی یہی رائے ہے۔امام شافعی اور جمہور نے بیت اللہ کے اندر ہر طرف نماز پڑھنا جائز قرار دیا ہے۔دروازہ کی طرف بھی منہ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ وہ بند ہو۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۲۴۲) اس آخری حصہ فتویٰ کو عنوان میں مصدر یہ حمد ابو عوانہ کے نزدیک الفاظ مِن دَاخِل بھی متن میں شامل ہیں۔(فتح الباری جز ء۳ صفحہ ۵۸۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔