صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 274
صحيح البخاري - جلد۳ ۳۷۴ ٢٥- كتاب الحج تشریح: مَا ذُكِرَ فِي الْحَجَرِ الْاَسْوَدِ : یہ باب بھی درحقیقت اس قسم کی تصحیح کے پیش نظر قائم کیا گیا ہے جس کا ذکر سابقہ باب کی شرح میں ابھی ہو چکا ہے۔حجر اسود سے متعلق بہت سی راویتیں ہیں جو امام بخاری کے معیار پر صحیح نہیں اترتیں۔مثلاً ان میں سے ایک روایت جو غریب ہے حجر اسود اور مقام ابراہیم کو دو ہیرے قرار دیا گیا ہے۔جن کا نور اللہ تعالیٰ نے عمد ابجھا دیا ہے ورنہ مشرق و مغرب ان سے روشن ہو جاتے۔(ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء في فضل الحجر الأسود والركن والمقام اس روایت کا ایک راوی ابو کی ہے جو غیر معروف اور غیر معتبر ہے۔اسی طرح حضرت ابن عباس سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ حجر اسود جنت سے نازل ہوا اور دودھ سے زیادہ سفید تھا مگر بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا۔(ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء في فضل الحجر الأسود والركن والمقام یہ روایت بھی مشتبہ ہے اور ایک یہ روایت بھی ہے کہ حجر اسود کی زبان اور ہونٹ ہوں گے اور وہ گواہی دے گا کہ کس نے اسے چوما۔(صحیح ابن خزیمه، کتاب المناسک، باب ذكر صفة الحجر يوم القيامة، جز به صفحه (۲۲) تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۵۸۳۔غرض اس قسم کی تمام غیر مستند روایتیں امام موصوف نے رڈ کی ہیں اور روایت نمبر ۱۵۹۷ قبول کی ہے۔مشرک اقوام عرب و جم گھڑے ہوئے پتھروں کی پوجا کرتے تھے اور انہیں نفع ونقصان کا مالک سمجھتے تھے۔حضرت عمر نے ان کے مشرکانہ خیال کا رڈ فرمایا ہے تا مسلمانوں میں سے ناواقف لوگوں کو اس پتھر کی نسبت کوئی غلط نہیں نہ ہو۔عبادت میں حمد و تعریف، فروتنی، امید و بیم اور دعا ہوتی ہے اور ان باتوں میں سے کسی ایک بات کا بھی حجر اسود کے چومنے یا چھونے سے قطعا کوئی تعلق نہیں اور نہ حجر اسود تقبیل ( چومنے ) اور استلام ( چھونے) سے مخصوص ہے۔بلکہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رکن یمانی بھی چو ما جا تا تھا۔بعض صحابہ تو بیت اللہ کے چاروں رکن اور ہر حصہ کو چومنا جائز سمجھتے تھے۔(روایت نمبر ۱۶۰۸) عنوان باب ۵۸ میں ہے کہ حجر اسود کا چومنا ضروری نہیں صرف ہاتھ سے چھونا کافی ہے۔محبوب حقیقی کی طرف ہر شئے جو منسوب ہوتی ہے وہ محبان صادق کی نظر میں محبوب ہوتی ہے خواہ وہ اپنی ذات میں کتنی ہی بے حقیقت ہو ( روایت نمبر ۱۶۰۵) عاشق اور محبت اپنی محبت کا اظہار مختلف طریق سے کرتا ہے۔چاہے وہ اپنی محبت کا اظہار چومنے سے کرے، چاہے چھونے سے۔آستانہ بارگاہ الہی جو اصل مقصود ہے، اس کی ایک ظاہری علامت بیت اللہ اور اس میں رکھا گیا حجر اسود ہے اور اس کو بوسہ دے کر یا چوم کر طواف شروع کیا جاتا ہے۔گویا یہ بھی ان آداب میں ایک ادب ہے جس کا تعلق بیت اللہ سے ہے۔وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ۔(الحج:۳۳) اور جوکوئی شعائر اللہ کوعظمت دے گا تو یقینا یہ بات دلوں کے تقویٰ کی علامت ہے۔] حجر اسود سے متعلق غیر مستند روایات کی بناء پر مخالفین اسلام کی طرف سے جو اعتراضات کئے گئے ہیں ان کا نہایت لطیف اور مدلل جواب چشمہ معرفت میں دیکھئے۔(چشمہ معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۹ تا ۱۰۱) نیز دیکھئے تشریح باب ۶۰٬۵۶۔