صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 13 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 13

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۳ ٢٤ - كتاب الزكاة باب اول کا عنوان زکوۃ کے وجوب پر قائم کیا گیا ہے اور امام بخاری نے اس تعلق میں زکوۃ کے معانی کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے ابو سفیان کے قول کا حوالہ دیا ہے جو لفظوں کے کچھ فرق کے ساتھ کتاب بدء الوحی روایت نمبرے میں بھی مذکور ہے۔ زکوٰۃ کے لغوی معنی ہیں نشو و نما ، حالت رفاہیت و آسائش اور پاکیزہ خلق اور شرعی اصطلاح میں زکوۃ کے معنی ہیں اپنے مال و دولت سے نصاب کے مطابق غرباء کی بہبودی کے لئے صدقہ نکالنا ۔ صدقہ کے معنی ہیں وہ عمل جو خالص رضاء الہی کے لئے کیا جائے۔ امام موصوف نے زکوۃ کو صدقات میں شامل رکھا ہے اور جیسا کہ آئندہ ابواب میں آئے گا کہ نماز کی طرح مالی عبادت یعنی صدقات کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک فرض اور دوسرا طوعی ۔ باب اول کی چھ روایتوں سے زکوۃ کے واجب ہونے کی بابت استدلال کیا گیا ہے اور اس کی غرض وغایت یہ بتائی گئی ہے: تُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ۔ یعنی قوم کے محتاجوں کو لوٹائی جائے گی۔ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ معاشرہ میں جو اقتصادی تفاوت ہے کوئی امیر ہے کوئی غریب، وہ بذریعہ زکوۃ دور کیا جائے گا۔ زکوۃ سے مقصود اجتماعی مضبوطی اور استواری ہے اور اس لحاظ سے یہ اسلامی نظام معیشت کا ایک اہم رکن ہے۔ اس باب کی پہلی روایت میں لفظ صدقہ سے مراد زکوۃ ہے۔ دوسری روایت میں زکوۃ جنت میں جانے کا سبب قرار دی گئی ہے۔ یعنی نہ دینے والا جہنم کی سزا کا مورد ہو گا اور یہ امر اس کے وجوب پر دال ہے۔ روایت نمبر ۱۳۹۶، ۱۳۹۷ ایک ہی واقعہ سے متعلق ہیں۔ مگر دوسری روایت پہلی کے لئے بطور تشریح لائی گئی ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں: تُقِيمُ الصَّلوةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّى الزَّكَوةَ الْمَفْرُوضَةَ۔ روایت نمبر ۱۳۹۸ ، ۱۳۹۹ بھی اسی وجوب کی تائید میں ہیں۔ علاوہ ازیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عمل سے بھی یہی استدلال کیا گیا ہے۔ یعنی اگر وہ زکوۃ کی ادائیگی واجب نہ سمجھتے تو منکرین زکوۃ سے جنگ کیوں کرتے ؟ ان کے نزدیک زکوۃ حقوق العباد میں سے ایک مالی حق ہے جس کا ادا کرنا لازمی ہے۔ روایت نمبر ۱۳۹۸ میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ کتاب الایمان زیر باب ۴۰ روایت نمبر ۵۳ نیز کتاب العلم زیر باب ۲۵ روایت نمبر ۷ ۸ میں بھی گذر چکا ہے۔ فتح مکہ کے بعد جو وفود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں آئے۔ ان میں سے پہلا وفد عبدالقیس کا تھا۔ یہ وفد بقیادت منذر بن اشجع ھ میں آیا تھا اور اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیام کر کے دین سیکھا اور واپس جا کر اپنی قوم کی ہدایت کا سبب ہوا؛ جس نے انشراح صدر سے اسلام قبول کیا۔ بنو سعد بن بکر نے ضمام بن تغلبہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فتح مکہ کے بعد بھیجا تھا۔ انہوں نے بھی قسم دے کر آپ سے یہی سوالات کئے تھے۔ دیکھئے کتاب العلم باب ۶ روایت نمبر ۶۳ ۔ لفظ زکوۃ کی وجہ تسمیہ خود قرآن مجید میں تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا (التوبة: ۱۰۳) کے الفاظ سے بیان فرمائی گئی ہے۔ یہ ظہیر و تزکیہ تین صورتوں میں ہوتا ہے۔ اخلاقی ، اقتصادی اور اجتماعی ۔ اخلاقی طور پر اس سے بخل ، خود غرضی ، حرص ولالچ ، اسراف، استبداد، حب تملق اور قساوت قلبی جیسے اخلاق دینیہ کا تزکیہ ہوتا ہے اور اس کے مقابلہ میں ایثار ، رحم ، نفس اور شفقت علی خلق الله۔ اللہ کے اوصاف حمیدہ سے متصف ہونے کی توفیق ملتی ہے۔ اقتصادی تزکیہ غریب طبقے کی ابتدائی ضروریات زندگی کا تحفظ ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔ جب افراد کے کھانے پینے کی ضرورتیں مہیا ہوں تو وہ عام طور سخاوت