صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 271
صحيح البخاری جلد۳ ۲۷۱ ٢٥-كتاب الحج ١٥٩٥: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ :۱۵۹۵ عمرو بن علی ( فلاس) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ (کہا: ) حي بن سعید ( قطان ) نے ہم سے بیان کیا، اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي (كيا ) عبید اللہ بن انس نے ہمیں بتایا۔( انہوں نے کہا : ( ابن ابی ملیکہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عباس نے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَجَرًا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: كَأَنِّي بِهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يَقْلَعُهَا حَجَرًا گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اس میں ایک کالا پھڈا ہے جو ایک ایک پتھر کر کے اس کو اکھیڑ رہا ہے۔١٥٩٦ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۱۵۹۶ سحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَن ابْن ليث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس شِهَابٍ عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ سعید بن مسیب سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: رسول اللہ يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کعبہ کوحبشیوں میں سے چھوٹی پنڈلیوں والا بر باد کرے گا۔الْحَبَشَة۔اطرافه: ۱۵۹۱ تشریح: يَغْرُو جَيْسٌ الْكَعْبَةَ : عنوانِ باب میں حضرت عائشہ کی جس روایت کا ذکر کیا گیا ہے؛ اس کے لیے کتاب البیوع باب ۴۹ روایت نمبر ۲۱۱۸ مع تشریح دیکھئے۔اس کے الفاظ ہیں يَغْرُ و جَيْشُ الْكَعْبَةَ فَإِذَا كَانُوا بَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوْلِهِمْ وَ آخِرِهِمْ وَفِيهِمُ أَسْوَاقُهُمْ وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ قَالَ يُخْسَفُ بِأَوْلِهِمْ وَ آخِرِهِمْ ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ۔یعنی کعبہ پر ایک لشکر چڑھائی کرے گا۔جب وہ بیداء میں پہنچے گا تو اول سے لے کر آخر تک سب زمین میں دھنس جائیں گے۔حضرت عائشہ کہتی تھیں : میں نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ اول سے آخر تک کیسے پھنس جائیں گے۔جبکہ وہاں منڈیاں بھی ہوں گی اور ایسے لوگ بھی ہونگے جو اُن میں سے نہیں ہونگے۔فرمایا: وہ اول سے آخر تک دھنسا دیے جائیں گے۔پھر اپنی اپنی نیتوں کے مطابق اُٹھائے جائیں گے۔روایت نمبر ۱۵۹) زیر باب ۴۷) مذکورہ بالا اور سندوں کے ساتھ نقل