صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 272 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 272

صحيح البخاری جلد۳ ۲۷۲ ٢٥- كتاب الحج کر کے حضرت عائشہ کی محولہ بالا روایت کے تحت کر دی گئی ہے۔اس ترتیب سے ظاہر ہے کہ حملہ آور خود تباہ ہوگا۔كَانِی بِهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يَقْلَعُهَا حَجَرًا حَجَرًا: امام بخاری کے نزدیک یہ پیشگوئی بیت اللہ کی عارضی تخریب سے متعلق ہے۔یہی وجہ ہے کہ عنوانِ باب میں حضرت عائشہؓ کی روایت ۲۱۱۸ کی طرف توجہ منعطف کر کے یہ فقرہ بطور وضاحت بڑھایا ہے کہ وہ ذلیل اور تباہ کر دیا جائے گا۔یعنی جن روایتوں میں بیت اللہ کی مکمل تخریب کا ذکر ہے وہ ان کے نزدیک صحیح نہیں۔گانِی بِہ میں یہ کی ضمیر کا مرجع بیت اللہ بھی ہو سکتا ہے اور گرانے والا بھی اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ ضمیر مہم ہو جس کی تشریح کا بعد کے جملہ سے ہوتی ہو۔یعنی میں یہ بات دیکھ رہا ہوں کہ ایک کالا پھڈا آدمی ہے جو بیت اللہ کو ایک ایک پتھر کر کے اُکھیڑ رہا ہے۔یہ روایت مشہور ہے جو متعد د راویوں سے تغیر لفظی کے ساتھ مروی ہے۔امام احمد بن حنبل اور ابوداؤد طیالسی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: يُسَابَعُ لِرَجُلٍ مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْتَحِلُّ هَذَا الْبَيْتِ أَهْلُهُ فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلُ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ثُمَّ يَجِيءُ الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا وَهُمُ الَّذِيْنَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنُزَهُ مسند ابوداؤد الطیالسی، ماروی سعيد بن سمعان عن أبي هريرة، روایت نمبر ۲۳۷۳ صفحه ۳۱۲-۳۱۳) (مسند احمد بن حنبل، جز ۲۶ صفحه ۲۹۱) یعنی رکن اور مقام کے درمیان ایک شخص کی بیعت کی جائے گی اور بیت اللہ والے پہلے لوگ ہوں گے جو اس کی بے حرمتی کریں گے اور اگر انہوں نے اس کی بے حرمتی کی تو عربوں کی ہلاکت کے متعلق مت پوچھو کہ وہ کتنی خطرناک ہوگی۔پھر (اس کے ساتھ ) اہلِ حبشہ آئیں گے اور وہ اسے برباد کریں گے اور اس کے بعد کبھی بھی اس کو آباد نہیں کریں گے اور وہ لوگ ہیں جو اس کے خزانے کو نکال لیں گے۔نعیم بن حماد کی روایت میں ہے: كَانِی أَنْظُرُ إِلَى أَصَيْلَعَ أَفَيُدَعَ أَفْحَجَ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ يَضْرِبُهَا بِالْكَرْزَنَةِ۔(الفتن لنعيم بن حماد، خروج الحبشة، جزء ۲ صفحہ (۶۷) گویا کہ میں ایک گنجے کو دیکھ رہا ہوں جو پھڈا ہے کہ وہ کعبہ کی چھت پر ہے اور اسے گُرز سے گرا رہا ہے۔امام احمد بن حنبل نے حضرت عبداللہ بن عمرو کے الفاظ میں اسے یوں نقل کیا ہے: يُحَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السَّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ وَيَسْلُبُهَا حِلْيَتَهَا وَيُجَرِّدُهَا مِنْ كِسْوَتِهَا وَلَكَائِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَصَيْلِعَ أُفَيْدِعَ يَضْرِبُ عَلَيْهَا بِمِسْحَاتِهِ وَمِعْوَلِهِ۔( مسند احمد بن حنبل، جز ۲۶ صفحہ ۲۲۰) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی کعبہ کو برباد کرے گا اور اس کے زیورات لوٹے گا اور اس کا غلاف اُتار لے گا اور میں اسے ایسا دیکھتا ہوں کہ وہ گنجا ہے اور پھڈا ہے۔اس پر اپنی کسی اور کدال مار رہا ہے اور علامہ ابن جوزی نے حضرت حذیفہ کی ایک لمبی روایت جس میں تخریب مکہ ومدینہ ویمن کا ذکر ہے ؛ بایں الفاظ نقل کی ہے: حَبْشِيِّ أَفْحَجُ السَّاقَيْنِ أَزْرَقُ الْعَيْنَيْنِ أَقْطَسُ الْأَنْفِ كَبِيرُ البطن۔ابو عبید کی تصنیف کتاب الغریب میں حضرت علی سے یوں مروی ہے: اسْتَكْثِرُوا مِنَ الطَّوَافِ بِهَذَا الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ فَكَأَتِي بِرَجُلٍ مِنَ الْحَبَشَةِ أَصَلَعَ وَأَصْمَعَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ قَائِدٌ عَلَيْهَا وَهِيَ تُهْدَمُ۔حاکم کی مرفوع روایت میں ہے: أَصْمَعُ وَأَفْدَعُ بِيَدِهِ مِعْوَلٌ يَهْدِمُهَا حَجَرًا