صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 270
صحيح البخاری جلد۳ ۲۷۰ ٢٥- كتاب الحج تقسیم نہیں کئے۔وہ ان نذرانوں کو مقدس سمجھتے تھے۔اپنے اس خیال کی تائید میں انہوں نے امام مسلم کی ایک روایت پیش کی ہے جو حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔وہ یہ ہے: لَوْ لَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ أَوْ قَالَ بِكُفْرٍ لَا نُفَقْتُ كَرَ الْكَعْبَةِ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَلَجَعَلْتُ بَابَهَا بِالْاَرْضِ (مسلم، كتاب الحج، باب نقض الكعبة وبنائها) یعنی اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت سے یا کہا کفر سے قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کا خزانہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کر دیتا اور اس کے دروازہ کو زمین سے ملادیتا۔اور فاکہی نے کتاب مکہ میں نقل کیا ہے کہ فتح مکہ کے دن آنحضرت ﷺ نے کعبہ میں ۶۰ اوقیہ سونا پایا اور آپ سے کہا گیا کہ اس سے جنگ میں فائدہ اُٹھایا جائے مگر آپ نے وہ سونا نہیں لیا۔(اخبار مكة، ذكر الذهب الذى وجده النبي الله الله في الكعبة ، جزء ۵ صفحہ ۲۳۵) قریش کے جذبات کا لحاظ رکھا۔اس سے ظاہر ہے کہ ان اموال میں تصرف کرنا جائز تھا۔مصلحت وقت کے تقاضا سے ان میں تصرف نہیں کیا گیا۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۵۷۷) فاکہی نے کتاب مکہ میں حضرت عائشہ کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ حضرت شیبہ حجمی ان کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس چڑھاوے کے کپڑے بہت جمع ہو جاتے ہیں تو ہم انہیں اتار کر گہرے گڑھوں میں دفن کر دیتے ہیں مبادا انہیں حائضہ عورتیں اور جنسی مرد یہ نہیں تو حضرت عائشہؓ نے ان سے کہا: بِقْسَمَا صَنَعْتَ وَلَكِنْ بِعْهَا فَاجْعَلُ ثَمُنَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِى الْمَسَاكِينِ فَإِنَّهَا إِذَا نُزِعَتْ عَنْهَا لَمْ يَضُرُ مَنْ لُّبِسَهَا مِنْ حَائِضِ أَوْ جُنُب ، یہ تو تم نے بہت بُرا کیا ہے۔لیکن چاہیے کہ تم انہیں بیچو اور ان کی قیمت اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور مساکین میں خرچ کرو۔کیونکہ جب وہ (کعبہ) سے اُتار لیے جاتے ہیں تو حائضہ یا جنبی کا انہیں پہنا نقصان دہ نہیں۔حضرت عائشہ کے اس فتوے کے بعد حضرت شیبہ ان کپڑوں کو یمن بھیج کر فروخت کرتے اور ان کی قیمت محتاجوں میں تقسیم کی جاتی۔(اخبار مكة، ذكر ماذا يفعل بالكسوة القديمة للكعبة، جزء ۵ صفحه ۲۳۱) ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۵۷۸) مذکورہ بالا روایتوں کے پیش نظر یہ قیاس بعید نہیں کہ امام بخاری نے سابقہ ابواب کے ضمن میں کسوہ کعبہ کا عنوان قائم کیا ہو۔چونکہ محولہ بالا روایت کسی معین صورت کو پیش نہیں کرتی اور انہیں اس کے سوا کوئی مستند روایت اس بارے میں نہیں ملی۔اس لیے عمداً انہوں نے بھی عنوان کو مسم رکھا ہے۔تعامل تو اب بھی یہی ہے کہ ہر سال غلاف کعبہ بطور تبرک اہل مکہ میں تقسیم ہوتا ہے اور اس سے لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔چونکہ ان میں آداب مکہ مکرمہ کا ذکر ہے اس لیے ضمنا بیت اللہ کے غلاف کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس کو بطور تبرک تقسیم کیا جاتا ہے اور اشارہ بتایا ہے کہ اس بارہ میں کوئی صحیح روایت مروی نہیں۔بَاب ٤٩ : هَدْمُ الْكَعْبَةِ کعبے کا گرایا جانا قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ (اور) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: نبی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی جَيْشُ الْكَعْبَةَ فَيُخْسَفُ بِهِمْ۔کرے گا وہ ذلیل اور تباہ کر دیا جائے گا۔