صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 269
صحيح البخاری جلد ۳ ٢٥-كتاب الحج لَقَدْ جَلَسَ هَذَا الْمَجْلِسَ عُمَرُ رَضِيَ شیبہ کے ساتھ کعبہ میں شاہ نشین پر بیٹھا تھا۔حضرت اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَّا أَدَعَ شیبہ نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اس جگہ بیٹھے فِيْهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهُ تھے اور انہوں نے کہا: میں ارادہ کر چکا ہوں کہ کعبہ قُلْتُ إِنَّ صَاحِبَيْكَ لَمْ يَفْعَلَا قَالَ هُمَا میں نہ سونا رہنے دوں نہ چاندی؛ سبھی بانٹ دوں۔میں نے کہا: آپ کے دونوں ساتھیوں نے تو ایسا الْمَرْءَانِ أَقْتَدِي بِهِمَا۔اطرافه ٧٢٧٥۔تشریح: نہیں کیا۔حضرت عمر نے کہا: انہی دونوں آدمیوں کی میں پیروی کروں گا۔كِسْوَةُ الْكَعْبَةِ: روایت نمبر ۱۵۹۲ سے واضح ہے کہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی رسم قدیم سے ہے۔اس تعلق میں علامہ ابن حجر نے اس باب کی ذیل میں مختلف روایتیں نقل کی ہیں کہ کس نے یہ رسم جاری کی۔(دیکھئے فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۵۷۹) امام موصوف نے ان روایتوں کو بوجہ غیر مستند ہونے کے نظر انداز کیا ہے۔اس بارہ میں عنوان قائم کر کے اس کا مضمون مہم کر دیا گیا ہے۔شارحین نے کئی قسم کی توجیہات سے اس عنوان کو مکمل کیا ہے۔مثلاً غلاف کعبہ کی تقسیم سے متعلق حکم۔مگر اس سے بات بنتی نظر نہیں آتی۔کیونکہ عنوان باب کے تحت جور دایت لائی گئی ہے اس میں غلاف کعبہ کا ذکر نہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مکہ کے گھروں کو کرایہ پر دینے اور ان کی خرید وفروخت کے ضمن میں غلاف کعبہ کا ذکر اس تعلق میں لایا گیا ہے۔اس سے ہر سال بیسیوں محتاج فائدہ اُٹھاتے ہیں۔تقسیم ہونے پر اس کو خود استعمال کرتے ہیں یا بیچتے ہیں محولہ بالا روایت میں چونکہ وضاحت نہیں اس لئے عنوان کو بھی غیر واضح رکھا گیا ہے۔جَلَسْتُ مَعَ شَيْبَةَ : حضرت شیبہ جو اس کے راوی ہیں عثمان بن طلحہ بن عبد العزی مجیبی کے بیٹے تھے۔یہ فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئے تھے۔آنحضرت علیہ نے حضرت شیبہ اور ان کے چچا زاد بھائی کو کعبہ کی چابیاں دیتے ہوئے فرمایا تھا: خُذُوهُ يَا بَنِي أَبِي طَلْحَةَ خَالِدَةً تَالِدَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يَأْخُذُ مِنْكُمْ إِلَّا ظَالِمٌ۔(عمدة القارى جزء ٩ صفحہ ۲۳۶ - ۲۳۷) یعنی اے بنی ابی طلحہ ! تم اسے قدیم سے رکھنے کی وجہ سے قیامت تک رکھو۔تم سے یہ ظالم کے سوا کوئی نہیں لے گا۔یہ بوجہ دربانی کعبہ کے جبی کہلاتے تھے۔کرسی سے مرادشاہ نشین ہے۔لَا اَدَعَ فِيْهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ: روایت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ کعبہ میں جو نذرانے بطور نقدی پیش کئے جاتے تھے وہ وہاں جمع رکھے جاتے تھے۔ابو وائل شقیق بن سلمہ کے ہاتھ کسی شخص نے کچھ نقدی بطور نذرانہ بھیجی۔جب وہ بیت اللہ میں داخل ہوئے تو حضرت شیبہ بھی شہ نشین پر بیٹھے ہوئے تھے۔ابووائل نے وہ نقدی ان کو دی تو انہوں نے کہا کہ یہ آپ ہی لے لیں۔ابو وائل نے کہا نہیں۔اگر میں نے ہی لینی ہوتی تو میں یہاں لے کر نہ آتا۔اس پر حضرت شیبہ نے انہیں حضرت عمرؓ کا واقعہ سنایا کہ انہوں نے خانہ کعبہ کا خزانہ محتاجوں میں تقسیم کرنا چاہا تو میں نے انہیں یہ کہہ کر روکا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ خزانہ تقسیم نہیں کیا۔امام ابن حجر کا خیال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غالبا یہ اموال قریش کے جذبات کو محوظ رکھتے ہوئے