صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 269 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 269

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۶۹ ٢٥ - كتاب الحج لَقَدْ جَلَسَ هَذَا الْمَجْلِسَ عُمَرُ رَضِيَ شیبہ کے ساتھ کعبہ میں شاہ نشین پر بیٹھا تھا۔ حضرت اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَّا أَدَعَ شیبہ نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اس جگہ بیٹھے فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهُ تھے اور انہوں نے کہا: میں ارادہ کر چکا ہوں کہ کعبہ قُلْتُ إِنَّ صَاحِبَيْكَ لَمْ يَفْعَلَا قَالَ هُمَا میں نہ سونا رہنے دوں نہ چاندی بھی بانٹ دوں ۔ الْمَرْءَانِ أَقْتَدِي بِهِمَا ۔ میں نے کہا: آپ کے دونوں ساتھیوں نے تو ایسا نہیں کیا۔ حضرت عمر نے کہا: انہی دونوں آدمیوں کی میں پیروی کروں گا۔ اطرافه: ٧٢٧٥۔ تشریح : كسوة الكعبة : روایت نبر ۱۵۹۲ سے واضح ہے کہ کبہ پر غلاف چڑھانے کی رسم قدیم سے ہے۔ اس تعلق میں علامہ ابن حجر نے اس باب کی ذیل میں مختلف روایتیں نقل کی ہیں کہ کس نے یہ رسم جاری اس مانے کی ۔ ( دیکھئے فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۵۷۹) امام موصوف نے ان روایتوں کو بوجہ غیر مستند ہونے کے نظر انداز کیا ہے۔ اس بارہ میں عنوان قائم کر کے اس کا مضمون مبہم کر دیا گیا ہے۔ شارحین نے کئی قسم کی توجیہات سے اس عنوان کو مکمل کیا ہے۔ مثلاً غلاف کعبہ کی تقسیم سے متعلق حکم ۔ مگر اس سے بات بنتی نظر نہیں آتی۔ کیونکہ عنوانِ باب کے تحت جو روایت لائی گئی ہے اس میں غلاف کعبہ کا ذکر نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مکہ کے گھروں کو کرایہ پر دینے اور ان کی خرید و فروخت کے ضمن میں غلاف کعبہ کا ذکر اس تعلق میں لایا گیا ہے۔ اس سے ہر سال بیسیوں محتاج فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ تقسیم ہونے پر اس کو خود صلى الله استعمال کرتے ہیں یا بیچتے ہیں۔ محولہ بالا روایت میں چونکہ وضاحت نہیں اس لئے عنوان کو بھی غیر واضح رکھا گیا ہے۔ جَلَسْتُ مَعَ شَيْبَةَ: حضرت شیبہ جو اس کے راوی ہیں عثمان بن طلحہ بن عبدالعزی حجیبی کے بیٹے تھے۔ یہ فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت شیبہ اور ان کے چچا زاد بھائی کو کعبہ کی چابیاں دیتے ہوئے فرمایا تھا: خُذُوهُ يَا بَنِي أَبِي طَلْحَةَ خَالِدَةً تَالِدَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يَأْخُذُ مِنْكُمْ إِلَّا ظَالِمٌ۔ (عمدۃ القارى جزء ٩ صفحہ ۲۳۶-۲۳۷) یعنی اے بنی ابی طلحہ تم اسے قدیم سے رکھنے کی وجہ سے قیامت تک رکھو۔ تم سے یہ ظالم کے سوا کوئی نہیں لے گا۔ یہ بوجہ دربانی کعبہ کے جیسی کہلاتے تھے۔ کرسی سے مراد شاہ نشین ہے۔ لَا اَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ: روایت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ کعبہ میں جو نذرانے بطور نقدی پیش کئے جاتے تھے وہ وہاں جمع رکھے جاتے تھے۔ ابو وائل شقیق بن سلمہ کے ہاتھ کسی شخص نے کچھ نقدی بطور نذرانہ بھیجی۔ جب وہ بیت اللہ میں داخل ہوئے تو حضرت شیبہ بھی شہ نشین پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو وائل نے وہ نقدی ان کو دی تو انہوں نے کہا کہ یہ آپ ہی لے لیں۔ ابو وائل نے کہا: نہیں۔ اگر میں نے ہی لینی ہوتی تو میں یہاں لے کر نہ آتا۔ اس پر حضرت شیبہ نے ا انے انہیں حضرت عمرؓ کا واقعہ سنایا کہ انہوں نے خانہ کعبہ کا خزانہ محتاجوں میں تقسیم کرنا چاہا تو میں نے انہیں یہ کہہ کر روکا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ خزانہ تقسیم نہیں کیا ۔ امام ابن حجر کا خیال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غالباً یہ اموال قریش کے جذبات کو ملحوظ رکھتے ہوئے