صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 265
صحيح البخاری جلد۳ ۲۶۵ ٢٥- كتاب الحج فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّى وَمَنْ دیا ہے۔پس جس نے میری پیروی کی تو وہ یقینا مجھ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِیمٌ رَبَّنَا سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقینا تو بہت اِنّى اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ بننے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اے ہمارے ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبّ! یقیناً میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو ایک رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفْبِدَةً بے آب و گیاہ وادی میں تیرے معزز گھر کے پاس آباد کر دیا ہے۔اے ہمارے رب ! تا کہ وہ نماز قائم کریں۔مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمُ الْآيَةَ پس لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے۔] (إبراهيم: ٣٦-٣٨) تشریح: یعنی باب کا الگ عنوان قائم نہیں کیا گیا۔شارحین نے اس کی کوئی معقول تو جیہہ پیش نہیں کی جو قابل ذکر ہو۔البتہ کرمانی " کا خیال ہے کہ چونکہ اس آیت کے مطابق امام بخاری کو کوئی روایت نہیں ملی ؛ اس لیے عنوانِ باب پر اکتفا کیا ہے۔(شرح البخاری کرمانی جلد ۸ صفحه ۱۱۲۱۱۱) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ (۲۳) لیکن یہ تو جیہ تسلی بخش نہیں۔اس سے قبل بھی متعدد بار اسی قسم کی مثالیں گزر چکی ہیں۔اس باب کا تعلق دراصل سابقہ ابواب کے مضمون سے ہے۔اس لئے عنوان قائم کر کے اسے سابقہ ابواب سے وابستہ کر دیا ہے اور کوئی روایت درج نہیں کی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی دعا میں عرض کرتے ہیں: اِنِّی اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ۔میں نے تیری ربوبیت پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنی اولاد کو ایک بنجر زمین میں ٹھہرایا ہے۔فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمُ وَارْزُقُهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ) (ابراهيم: (۳۸) انہیں ممتاز بنا کہ لوگوں کے دل ان کی طرف جھکیں اور انہیں رزق عطا کر۔آیت سَوَاءٌ الْعَكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ سے مساوات کا جو مفہوم نکالا گیا ہے وہ درست نہیں۔ذریت ابراہیم کو اس خدا دا د ملکیت اور اس کے ثمرات سے محروم رکھنا اور ان سے ہر قسم کا امتیاز چھین لینا منشاء دعا کے منافی ہے۔اس لطیف استدلال سے امام موصوف نے ایسے مسائل کا رد کیا ہے جن میں غلو ہو۔احکام کے تعلق میں امام بخاری کا وقفہ وقفہ پر قرآن مجید کی آیات کا حوالہ دینے سے جو اصل مقصود ہے، اس کا ذکر باب او کی محولہ آیات کے ضمن میں کیا جا چکا ہے۔یعنی فقیہانہ موشگافیاں حج کے اصل مقصد کو ذہنوں سے اوجھل نہ کر دیں۔چنانچہ باب ۴۵ کے تحت کوئی آیت درج نہیں اور ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو لق و دق بیابان میں آباد کرنے کی غرض وغایت کا ذکر کیا ہے جو ان کی زندگی کا نصب العین تھا۔استیصال شرک اور قیام توحید میں اولاد کو شریک رکھنا اور انہیں اس مقدس غرض و غایت کے لئے وقف کر دینا ہر مسلمان کا فرض ہے۔اس تعلق میں تفسیر کبیر۔تفسیر سورۃ الفیل وسورۃ القریش بھی دیکھئے۔