صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 264
صحيح البخاري - جلد۳ ۲۶۴ ٢٥- كتاب الحج الْأَوْزَاعِيَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ وَقَالَا روایت نقل کرتے ہوئے کہا کہ ابن شہاب نے مجھے بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ قَالَ أَبُو بتایا اور ان دونوں نے الفاظ بنی ہاشم اور بنی مطلب عَبْدِ اللَّهِ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَشْبَهُ۔روایت میں نقل کئے ہیں۔ابوعبداللہ نے کہا: بنی مطلب کا لفظ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔اطرافه: ۱٥۸۹، ۳۸۸۲، ٤۲۸۴، ٤٢٨٥ ٠٧٤٧٩ ریح: نُزُولُ النَّبِي الله مَكَّةَ : امام بخاری نے سابقہ باب کو مصدر یہ رکھ کر اپنی رائے ظاہر نہیں کی تھی بلکہ صرف ایک فریق کے استدلال کو غلط ثابت کیا تھا مگر اس باب میں اپنی رائے ظاہر کر دی ہے۔اس ضمن میں جو دو روایتیں نقل کی گئی ہیں وہ دونوں مل کر مضمون بالکل واضح کر دیتی ہیں۔پہلی روایت میں بنی کنانہ کی طرف علاقہ منسوب کیا گیا ہے۔خیف کے معنی پہاڑی کا ڈھلوان جو سیلاب کی زد سے باہر ہو۔(عمدۃ القاری جز ء ۹ صفحہ ۲۲۹) دوسری روایت سے واضح کیا ہے کہ یہ علاقہ محصب تھا جس میں نضر بن کنانہ کی اولاد آباد تھی اور وہ اس کے مالک تھے۔قریش بھی نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے۔چونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور آپ کا مقاطعہ کرنے میں پیش پیش تھے اس لئے ان کا ذکر خصوصیت سے علیحدہ کیا گیا ہے۔پہلی روایت میں لفظ غدًا سے وقت کی تعین نہیں ہوتی۔دوسری روایت نے اس کی وضاحت کر دی ہے اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تو آپ کسی جگہ تھے یعنی وَهُوَ بِمِنى۔یہ تشریح بھی زہری سے مروی ہے۔مقاطعہ کا محولہ بالا واقعہ دعوی نبوت کے ساتویں سال میں ہوا اور تین سال رہا۔اس کی تفصیل کتاب الجھاد والسير ، باب میں دیکھئے۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ بَنِى الْمُطَّلِبِ اَشْبَهُ : مطلب اور ہاشم دونوں بھائی تھے اور عبد مناف کے بیٹے۔قریش نے مقاطعہ بنی عبد مناف سے کیا تھا۔اس لئے صحیح روایت وہ ہے جس میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کے مقاطعہ کا ذکر ہے۔عبدالمطلب چونکہ ہاشم کے بیٹے تھے، اس لئے بنی ہاشم کہہ کر بنی عبد المطلب کا ذکر کرنا عبث تھا۔(اس تعلق میں كتاب الجهاد والسير، باب ۱۸۰ روایت نمبر ۳۰۵۸ بھی دیکھئے۔) مقاطعہ کا واقعہ ۶۶ءکا ہے۔شجرۂ نسب کے لیے كتاب المناقب، باب ۲ ملاحظہ کریں۔بَاب ٤٦ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ امِنَّا وَاجْنُبْنِي وَبَنِي أَنْ نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور جب ابراہیم نے دعا کی اے میرے رب ! اس شہر کو پر امن بنا اور مجھے اور میری اولا د کو بچا کہ ہم بتوں کو پوجیں۔رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرً ا مِنَ النَّاسِ اے میرے رب ! انہوں نے تو بہت سے لوگوں کو بہکا