صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 12
صحيح البخاري - جلد ٣ ۱۳ ٢٤ - كتاب الزكاة النَّاسَ حَتَّى يَقُوْلُوْا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ تک کہ وہ یہ اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا نہیں۔پس جس نے یہ کلمہ کہا، اس نے مجھ سے اپنا یہ مال اور جان بچالی۔سوائے اس کے کہ جہاں حقوق کا تعلق ہو اور اس کا حساب اللہ پر رہے گا۔بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ۔اطرافه ١٤٥٧، ٦٩٢٤، ٧٢٨٤۔١٤٠٠: فَقَالَ وَاللَّهِ لَأَقَاتِلَنَّ مَنْ ۱۴۰۰: اس پر (حضرت ابوبکر نے ) کہا: اللہ کی قسم ! فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ میں (ان سے) ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوۃ کے حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا درمیان فرق کرتے ہیں۔کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے۔كَانُوا يُؤَدُّوْنَهَا إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله کی قسم ! اگر انہوں نے مجھے بکری کا ایک بچہ بھی نہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا ديا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا وہ نہ دینے پر ان( لوگوں) سے ضرورلڑوں گا۔أَنْ قَدْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے اللہ کی قسم ! یہ اسی اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ۔اطرافه ١٤٥٦، ۶۹۲٥، ۷۲۸۵ لئے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا۔میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔تشریح: وُجُوبُ الزَّكوة : اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے۔(کتاب الایمان باب نمبر ۲ روایت نمبر۱) ان میں سے پہلا رکن کلمہ شہادت ہے۔اس کے بعد چار رکن ہیں۔نماز، زکوۃ، حج اور رمضان کے روزے۔جن کا تعلق عبادت سے ہے۔اسلامی عبادت کی اصولاً چار قسمیں ہیں۔اول قسم اظہار عبودیت یعنی ذاتِ باری تعالیٰ سے محبت و اطاعت کا اظہار جو ذکر و مناجات سے کیا جاتا ہے۔اس کا نام اسلامی اصطلاح میں التحیات ہے۔التحيات ثجية کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ القاب ہیں، جن سے ایک بادشاہ مخاطب کیا جاتا ہے۔دوسری قسم عبادت کی وہ اظہار محبت و اطاعت ہے جس کا تعلق اعضاء وجوارح سے ہے۔اس کا نام اسلامی اصطلاح میں الصلوات ہے۔اس عبادت کی مشق پنجگانہ نماز اور صیام رمضان سے کی جاتی ہے۔تیسری قسم عبادت کی مالی قربانی ہے جس کا نام اسلامی اصطلاح میں انصیبات ہے۔چوتھی قسم عبادت کی نفس کی قربانی ہے۔جس کا نام حج ہے اور اس جانی قربانی کی وجہ سے حج جہاد میں شمار کیا گیا ہے۔حج در حقیقت حاوی ہے تمام اقسام عبادت پر اور حقیقت عبودیت کے اعتبار سے جامع ہے؛ شانِ ابراہیمی اور ہمہ گیر مرکزیت کا۔اس کی تفصیل کتاب الحج میں آئے گی۔