صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 12 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 12

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۴ ٢٤ - كتاب الزكاة النَّاسَ حَتَّى يَقُوْلُوْا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَمَنْ تک کہ وہ یہ اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا نہیں ۔ پس جس نے یہ کلمہ کہا، اس نے مجھ سے اپنا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ ۔ اطرافه: ١٤٥٧، ٦٩٢٤، ٧٢٨٤۔ مال اور جان بچالی ۔ سوائے اس کے کہ جہاں حقوق کا تعلق ہو اور اس کا حساب اللہ پر رہے گا۔ ١٤٠٠: فَقَالَ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ ۱۴۰۰: اس پر (حضرت ابوبکر نے) کہا: اللہ کی قسم ! فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ میں (ان سے) ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوۃ کے حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُوْنِي عَنَاقًا درمیان فرق کرتے ہیں۔ کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے۔ كَانُوا يُؤَدُّوْنَهَا إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللہ کی قسم ! اگر انہوں نے مجھے بکری کا ایک بچہ بھی نہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا و یا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا وہ نہ دینے پر ان ( لوگوں ) سے ضرور لڑوں گا۔ رعنه أَنْ قَدْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے اللہ کی قسم یہ اسی لئے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ۔ اطرافه: ١٤٥٦، ٦٩٢٥، ٧٢٨٥۔ سینہ کھول دیا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔ تشریح : وُجُوبُ الزَّكُوةِ: اسلم کی بنیاد پار د پانچ ارکان پر ہے ۔ (کتاب الایمان باب نمبر ۲ روایت نمبر ۸ ) ان میں سے پہلا رکن کلمہ شہادت ہے۔ اس کے بعد چار رکن ہیں۔ نماز، زکوۃ، حج اور رمضان کے ذات ہے۔ روزے۔ جن کا جن کا تعلق عبادت سے ہے۔ اسلامی عبادت کی اصولاً چار قسمیں ہیں۔ اول قسم اظہار عبودیت یعنی : باری تعالیٰ سے محبت و اطاعت کا اظہار جو ذکر و مناجات سے کیا جاتا ہے۔ اس کا نام اسلامی اصطلاح میں التحیات ہے۔ التحيات تَحِيَّة کی جمع ہے اور اور اس اس سے سے مراد مراد وہ القاب ہیں، ہیں، جن سے ایک بادشاہ مخاطب کیا جاتا ہے۔ دوسری قسم ع عبادت کی وہ اظہار محبت و اطاعت ۔ اعت ہے جس کا تعلق اعضاء و جوارح سے ہے۔ ہے۔ ۔ اس کا نام اسلامی اصطلاح میں الصلوات اس عبادت کی مشق پنجگانہ نماز اور اور صیام صیان رمضان سے کی جاتی ہے۔ تیسری قسم عبادت عبادت کی، کی مالی قربانی ہے جس کا نام اسلامی اصطلاح میں الطیبات ہے۔ چوتھی قسم عبادت کی نفس کی قربانی ہے۔ جس کا نام حج ہے اور اس جانی قربانی کی وجہ سے حج جہاد میں شمار کیا گیا ہے۔ حج در حقیقت حاوی ہے تمام اقسام عبادت پر اور حقیقت عبودیت کے اعتبار سے جامع ہے؛ شانِ ابراہیمی اور ہمہ گیر مرکزیت کا۔ اس کی تفصیل کتاب الحج میں آئے گی۔