صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 262 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 262

صحيح البخاری جلد۳ ۲۶۲ ٢٥- كتاب الحج تھی مگر بعد میں اس قسم کی روایتوں کے پیش نظر فقہاء نے اس باب کو مسئلہ کی شکل وصورت دے دی۔بعض نے جواز کا اور بعض نے عدم جواز کا فتوی دیا یہاں تک کہ عدم جواز کا فتویٰ دینے والوں نے آیت سَوَاءٌ الْعَكِفُ فِيْهِ وَالْبَادِ سے بھی استنباط کیا۔ائمہ مالک ، نوری، ابو حنیفہ اور عطاء بن ابی ربائے کی بھی یہی رائے ہے۔مگر امام ابو یوسف و امام شافعی و امام احمد بن حنبل نے گھروں کا بچنا اور کرایہ پر دینا جائز قرار دیا ہے اور اسی فتویٰ کے جواز میں روایت نمبر ۱۵۸۸ سے استدلال کیا ہے۔کیونکہ اس میں عقیل کا حق وراثت تسلیم کیا گیا ہے۔قرآن مجید کی محولہ بالا آیت سے جو استدلال کیا گیا ہے ان کے نزدیک صحیح نہیں کیونکہ اس میں بجائے حرم مسجد حرام کی تخصیص کی گئی ہے اور اس سے مراد عارضی طور پر آنے والے لوگ ہیں۔ان کے مستقل قیام کا سوال نہیں۔(عمدۃ القاری جزء صفحہ ۲۳۵) ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۵۶۹) اسی طرف توجہ دلانے کے لئے امام بخاری نے لفظ الباد کی شرح لفظ الطارئ سے کی ہے۔طَرُوء بمعنی عارضی طور سے آنا اور الطَّارِی کے معنی عارضی طور پر آنے والا اور لفظ کا کیف کے معنے مقیم مستقل رہائش رکھنے والا۔(لسان العرب تحت لفظ طر أ، عكف ) امام بخاری نے لفظ عاکف کی جگہ مَعُكُوفًا کی جو شرح اختیار کی ہے تو در حقیقت اس سے وہ ان فقہاء کا استدلال نظر انداز کر رہے ہیں جنہوں نے آیت سَوَاءً الْعَكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ کی بناء پر فتوی دیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں مکانات فروخت کرنا اور کرایہ پر دینا جائز نہیں اور آیت وَالْهَدْيَ مَعَكُوْفًا أَنْ يُبْلُغَ مَحِلَّهُ (الفتح: ۲۶) کی طرف توجہ منعطف کی ہے کہ اہل مکہ نے مسلمانوں کو حج کرنے سے روکا اور قربانیاں ذبح نہیں ہونے دیں۔اس لئے آیت سَوَاءٌ الْعَكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ کا مفہوم یہ ہے کہ سب لوگ مسجد حرام میں آزادی سے مذہبی فرائض ادا کر سکتے ہیں۔کوئی حق نہیں رکھتا کہ دوسرے کو رو کے۔کسی خرید و فروخت اور کرایہ پر مکان دینے کی ممانعت سے آیت کا تعلق نہیں۔امام موصوف نے مذکورہ بالا فقہی استنباط کی غلطی واضح کرنے کی غرض سے ہی وَأَنَّ النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سَوَاءٌ خَاصَّةً کے الفاظ بڑھائے ہیں۔یعنی تمام لوگ بیت اللہ میں عبادت گزاری کا حق رکھتے ہیں۔باب ٤٥: نُزُولُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں انترنا {قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ نُسِبَتِ الدُّورُ { ابو عبد اللہ نے کہا: گھر عقیل کی طرف منسوب ہوئے إِلَى عَقِيْلِ وَتُوْرَثُ الدُّوْرُ وَتُبَاعُ اور گھر وراشتا دیئے جاتے ہیں اور بیچے بھی جاتے ہیں اور خریدے بھی جاتے ہیں۔} وَ تُشْتَراى } ١٥٨٩ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۱۵۸۹ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا ، (کہا :) یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۵۷۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔