صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 261 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 261

صحيح البخاری جلد۳ ۲۶۱ ٢٥-كتاب الحج كَانَا مُسْلِمَيْنِ وَكَانَ عَقِيْلٌ وَطَالِبٌ تھے اور حضرت جعفر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے ان كَافِرَيْنِ فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سے وراثت میں کچھ نہیں لیا تھا۔کیونکہ وہ دونوں رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ مسلمان تھے اور عقیل اور طالب کا فر۔اس لئے حضرت الْكَافِرَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانُوا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ مومن کافر کا يَتَأَوَّلُوْنَ قَوْلَ اللهِ تَعَالى: اِنَّ وارث نہیں ہوتا۔ابن شہاب نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَهَدُوا کے اس قول سے استدلال کرتے تھے: جو ایمان بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللهِ لائے ہیں اور ہجرت کی ہے اور انہوں نے اپنے وَالَّذِينَ اوَوْا وَنَصَرُوا أُولَيكَ مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے بعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضُ الْآيَةَ۔اور وہ لوگ جنہوں نے مہاجرین کو جگہ دی اور ان کی (الأنفال: (۷۳) مدد کی وہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔اطرافه ۳۰۵۸، ٤٢٨٢، ٠٦٧٦٤ تشریح: تَوْرِيتُ دُورِ مَكَّةَ وَبَيْعُهَا : بعض نے بیت اللہ کی عزت کے منافی سمجھا ہے کہ مکہ کے گھر بیچے یا خرید کے یا ورثے میں دیئے جائیں۔یہ مسئلہ بھی از قبیل غلو ہے۔امام ابن حجر کی رائے ہے کہ یہ باب ایسی روایتوں کے رد میں قائم کیا گیا ہے جن سے مذکورہ بالا رائے کی تائید ہوتی ہو۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۵۶۸ ) علامہ عینی نے بھی ایسی روایتوں کا پایا جانا تسلیم کیا ہے جن میں سے علقمہ بن نضلہ کی ایک مشہور روایت ہے اور اس کو امام طحاوی نے بھی مختلف سندوں اور ثقہ راویوں سے نقل کیا ہے۔خلاصہ ان کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں گھر نہیں بیچے جاتے تھے اور نہ وہ کرایہ پر دئے جاتے تھے اور کھلی چراگاہیں تھیں جن میں ریوڑ چراتے اور جہاں کوئی چاہتا رہتا۔اسی طرح امام طحاوی نے ایک اور روایت حضرت عبد اللہ بن عمر سے نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کعبہ کے گھروں کا بیچنا یا انہیں کرایہ پر دینا جائز نہیں۔(شرح معانی الآثار، كتاب البيوع، باب بيع أرض مكة وإجاراتها، جز ۲ صفحه ۴۸، ۴۹) (عمدة القاری جزء ۹ صفحه ۲۲۵) عبد الرزاق نے ابن جریج سے نقل کیا ہے کہ عطاء بن ابی رباح حرم میں مکان کرایہ پر دینے سے منع کیا کرتے تھے اور انہوں نے ابن جریج کو بتایا کہ حضرت عمر نے مکہ مکرمہ میں گھروں کے آنگنوں اور ان کے سامنے خالی جگہوں کا احاطہ کر کے بند کرنے سے روکا کہ مبادا حاجیوں کو ٹھہرنے میں وقت ہو۔(مصنف عبد الرزاق، کتاب المناسک، باب فی الحرم وهل تبوّب دور مكة والكراء بمنى روایت نمبر ۹۲۱۰، جزء ۵ صفحه ۱۴۶) لوگوں نے مسافروں کے ازدحام سے بچنے اور اپنی جگہوں سے فائدہ اٹھانے کی غرض سے چار دیواریاں بنا کر ان کو دروازوں سے محفوظ رکھنے اور کرایہ پر دینے کا طریق شروع کر دیا تھا۔جس سے حضرت عمرؓ نے منع فرمایا اور مہمان بیت اللہ کے ساتھ حسن سلوک برتنے کی تلقین کی۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه۵۶۹) یہ ایک انتظامی صورت