صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 260
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۶۰ بَاب ٤ ٤ : تَوْرِيْثُ دُوْرِ مَكَّةَ وَبَيْعُهَا وَشِرَاتُهَا مکہ کے گھر وراثت میں دینا اور ان کا بیچنا اور ان کا خریدنا ٢٥-كتاب الحج وَأَنَّ النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سَوَاءٌ اور لوگ خاص کر مسجد حرام میں برابر ہیں۔خصوصاً اس خَاصَّةً لِقَوْلِهِ تَعَالَى : إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جن لوگوں نے کفر کیا اور وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَالْمَسْجِدِ وہ اللہ کی راہ سے اور اس مسجد حرام سے روک رہے الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَهُ لِلنَّاسِ ہیں جس کو ہم نے سبھی لوگوں کے لئے بنایا ہے۔اس سَوَاءَ الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ وَمَنْ کے باشندے اور اہل بادیہ برابر ہیں اور جس نے تُرِدْ فِيهِ بِالْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ ناحق اس کی بے حرمتی کرنے کا ارادہ کیا ہم اسے عَذَابِ اليْمِ (الحج: ٢٦) دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ } الْبَادِي الطَّارِئ { ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: * } بادی مَعْكُوْفًا مَحْبُوْسًا۔کے معنی ہیں) باہر سے آنے والا۔مَعْكُوف ( جو قرآن میں آیا ہے اس کے معنی ہیں ) روکے ہوئے۔١٥٨٨ : حَدَّثَنَا أَصْبَغُ قَالَ أَخْبَرَنِي :۱۵۸۸: اصبغ ( بن فرج ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ (عبدالله) بن وہب نے مجھے بتایا۔انہوں نے یونس عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سے، یونس نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے علی عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْن زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ بن حسین سے، انہوں نے عمرو بن عثمان سے عمرو نے عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَيْنَ تَنْزِلُ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ فَقَالَ وَهَلْ تَرَكَ عَقِيْلٌ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! آپ مکہ کے اپنے محلہ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُوْرٍ وَكَانَ عَقِيْلٌ وَرِثَ میں کہاں اُتریں گے؟ آپ نے فرمایا: کیا عقیل نے أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ ہمارے لئے کوئی محلہ یا مکان چھوڑا ہے اور عقیل اور وَلَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَيْئًا لِأَنَّهُمَا طالب (اپنے باپ ) ابوطالب کے وارث ہوئے حمد الفاظ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۵۶۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔