صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 260 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 260

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۶۰ ٢٥ - كتاب الحج بَاب ٤٤ : تَوْرِيْثُ دُوْرِ مَكَّةَ وَبَيْعُهَا وَشِرَاتُهَا مکہ کے گھر وراثت میں دینا اور ان کا بیچنا اور ان کا خریدنا وَأَنَّ النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سَوَاءٌ اور لوگ خاص کر مسجد حرام میں برابر ہیں۔ خصوصاً اس خَاصَّةً لِقَوْلِهِ تَعَالَى : إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جن لوگوں نے کفر کیا اور وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ وَالْمَسْجِدِ وہ اللہ کی راہ سے اور اس مسجد حرام سے روک رہے الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْتُهُ لِلنَّاسِ ہیں جس کو ہم نے بھی لوگوں کے لئے بنایا ہے۔ اس سَوَاءَ الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ وَمَنْ کے باشندے اور اہل بادیہ برابر ہیں اور جس نے يُرِدْ فِيْهِ بِالْحَادِ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ ناحق اس کی بے حرمتی کرنے کا ارادہ کیا ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ عَذَابٍ أَلِيمٍ (الحج : ٢٦) { قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ } الْبَادِي الطَّارِئ ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: بادی مَعْكُوفًا مَحْبُوسًا۔ کے معنی ہیں ) باہر سے آنے والا ۔ مَعْكُوف ( جو قرآن میں آیا ہے اس کے معنی ہیں ) روکے ہوئے۔ ١٥٨٨ : حَدَّثَنَا أَصْبَعُ قَالَ أَخْبَرَنِي ۱۵۸۸: اصبغ ( بن فرج ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ( عبد الله ) بن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یونس عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے علی عُثْمَانَ عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ بن حسین سے، انہوں نے عمرو بن عثمان سے، عمرو نے عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَيْنَ تَنْزِلُ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ فَقَالَ وَهَلْ تَرَكَ عَقِيلٌ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! آپ مکہ کے اپنے محلہ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُوْرٍ وَكَانَ عَقِيْلٌ وَرِثَ میں کہاں اُتریں گے؟ آپ نے فرمایا: کیا عقیل نے أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَ طَالِبٌ وَلَمْ يَرِثُهُ جَعْفَرٌ ہمارے لئے کوئی محلہ یا مکان چھوڑا ہے اور عقیل اور وَلَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا شَيْئًا لِأَنَّهُمَا طالب اپنے باپ) ابوطالب کے وارث ہوئے الفاظ ”قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ، فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۵۶۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔