صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 259
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۵۹ ٢٥ - كتاب الحج مَّنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ نے منصور سے منصور نے مجاہد سے، مجاہد نے طاؤس ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ سے ، طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ فَتْح مَكَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللهُ لَا کے دن فرمایا: اس شہر کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے۔اس کا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا کا نشانہ تو ڑا جائے اور نہ اس کا شکار بھگایا جائے اور نہ اس کی گری پڑی چیز کوئی اُٹھائے سوائے اس شخص کے جو يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا۔اُس کی شناخت کرائے (تا جس کی ہو اُس کو پہنچ جائے۔) اطرافه : ۱۳٤٩ ، ۱۸۳۳ ، ۱۸۳٤، ۲۰۹۰، ۲٤۳۳ ، ۲۷۸۳، ۲۸۲۵، ۳۰۷۷، ۳۱۸۹، ٤۳۱۳۔تشریح: فَضْلُ الْحَرَم: حرم عربی زبان میں قابل تعظیم اور محفوظ شئی کو کہتے ہیں۔جس کی حمایت و حفاظت اور ادب انسان کے لئے ضروری ہو۔بیوی کو حرم اسی لئے کہتے ہیں اور شرعی اصطلاح میں بیت اللہ کا وہ احاطہ ہے جو بیت اللہ کی وجہ سے قابل ادب اور امن کی جگہ ہے۔ہر قسم کا جنگ و جدال اور خلاف شریعت فعل اس میں قطعی طور پر ممنوع ہوتا ہے۔جیسا کہ باب کی حدیث سے واضح ہے۔حرم کا یہ مفہوم مکہ مکرمہ اور اس کے مضافات پر بھی اطلاق پاتا ہے۔عنوان باب میں جو دو آیتیں درج ہیں ان سے سارا شہر حرم قرار دیا گیا ہے۔روایت نمبر ۱۵۸۷ مزید تشریح کے لئے لائی گئی ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ کے علاقے اور شکار گا ہیں وغیرہ بھی حرم ہیں۔حرم کا حدود اربعہ مدینہ کی طرف تین میں۔جس میں تنعیم بھی واقع ہے۔یمن اور عراق کی طرف سات میل، جدہ کی طرف دس میل، جعرانہ کی طرف پانچ میں اور طائف کی طرف گیارہ میل۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۲۲۲) ان حدود میں واقع شدہ بستیاں مکہ مکرمہ کے لئے بطور محافظ تھیں۔آیت اَوَلَمْ نُمَكِنُ لَهُمُ حَرَمًا آمِنًا (القصص:۵۸) کا یہ مفہوم بھی ہے کہ ہم نے بیت اللہ کی عزت دلوں میں اس طور سے قائم کر دی ہے کہ اہل بادیہ اس کی حفاظت و حمایت کرنا اپنا نہ ہی فرض سمجھتے ہیں۔چنانچہ فتح مکہ کے بعد خزاعہ اور ہوازن وغیرہ قبائل کا آنحضرت ﷺ سے جنگ کے لئے بھڑک اُٹھنا اس مذہبی حمیت کی وجہ سے تھا۔مکہ مکرمہ کے بعض اطراف میں غیر آباد کو ہستانی سلسلہ ہے؛ اس لئے حدود حرم کی مسافت مختلف جہت سے کم و بیش ہے۔ان حدود سے آگے کا علاقہ حل کہلاتا ہے۔اسی حل وحَرَم کا ذکر حضرت زین العابدین ابن حسین کے متعلق مشہور مرثیہ میں کیا گیا ہے: هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطُأْتَهُ وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالْحِلَّ وَالْحَرَمُ الأغانى، الجزء الخامس عشر، أخبار الحزين ونسبه حرم کے آداب میں سے ہے کہ اس کے اندر محرمات الہیہ کا خاص طور پر پاس رکھا جائے اور کوئی شخص اس کے امن میں کسی قسم کا رخنہ نہ ڈالے۔بلکہ حرم کے اندر خشوع و خضوع سے عبادت کی جائے اور ذکر الہی اور دعائیں کثرت سے ہوں۔