صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 257
صحيح البخاری جلد۳ ۲۵۷ ٢٥ - كتاب الحج منسوب ہونا اور ان امور سے متعلق اقوام عرب کا نسلاً بعد نسل اتفاق ؛ یہ سب باتیں بین شہادات متواترہ ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وادی مکہ سے گہرا تعلق ہے اور کعبہ وہ بیت ایل ہے جس کی بنیادیں بھی انہی کے مبارک ہاتھوں سے اُٹھائی گئی تھیں۔کیونکہ وہ جہاں کہیں بھی وحی الہی کے ماتحت موعودہ ملک کے کسی حصہ میں گئے وہاں ضرور قربان گاہ قائم کی۔کنعان سے جنوب کی طرف واقع ملک قادس اور صحرائے شور کے درمیان حضرت ابراہیم علیہ السلام کا رہائش اختیار کرنے کا پتہ بھی بائبل سے چلتا ہے۔( پیدائش باب ۲۰ آیت ۱) قادس اور صحرائے شور (جفار ) عرب کا خالص حصہ ہیں۔اسی سفر کے اثناء میں حضرت اسحق علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام اس سے بہت قبل پیدا ہو چکے تھے اور ان کی عمر ۱۳ برس سے زائد ہو چکی تھی۔(پیدائش باب ۱۷ آیت ۲۱ تا ۲۷) اور ذبیحہ کا واقعہ بھی اسی سفر سے متعلق ہے۔( پیدائش ۲۲: ۱ تا ۱۹) گوموجودہ تورات میں ذبیحہ کا موضوع حضرت اسحق علیہ السلام کو بنایا گیا ہے مگر امتحان کی تلخی اور اس میں غایت درجہ وفاداری کا نمونہ اس وقت نمایاں ہوسکتا ہے کہ جب تعبیر خواب کی چھری اکلوتے بیٹے کی گردن پر رکھی گئی ہو۔عربی تو رات میں مشار الیہ وحی الہی کے الفاظ فَلَمْ تَمْسِكُ ابْنَكَ وَحِيْدَكَ عَنِی ہیں۔(پیدائش ۱۲:۲۲ تا ۱۶) حضرت ہاجرہ کی ہجرت کا واقعہ بھی اس صحرا سے تعلق رکھتا ہے جہاں انہوں نے تسلی بخش خواب دیکھا اور جس کی وجہ سے انہوں نے چشمہ کا نام نبر بھی رکی رکھا۔(پیدائش ۱۴:۱۶) عریش اس کے قریب واقع ہے۔حضرت الحق اکلوتے بیٹے نہیں کہلا سکتے کیونکہ حضرت اسماعیل ان کے پلو ٹھے بیٹے موجود تھے۔اگر چہ یہودیوں اور عیسائیوں نے حضرت اسماعیل کو لونڈی کا بیٹا قراردے کر ان کو نبوت کی وراثت سے محروم کیا ہے۔مگر تو رات نے ان کو نبوت اور موعودہ برکات سے محروم نہیں کیا۔( پیدائش ۱۶: ۱۰ تا ۱۳ نیز ۲۰:۱۷ ) بلکہ انہی کو سب سے اول موعودہ برکات کا وارث ٹھہرایا ہے جس کی وجہ سے ابدی عبد کا نشان ان کو پہلے پہل لگایا گیا۔( پیدائش ۱۰:۱۷ تا ۱۵) علاوہ ازیں ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ عہد قدیم کی تاریخ یعنی کتاب پیدائش حضرت اسحق علیہ السلام کی سوانح زندگی کو مفصل بیان کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ کہاں اور کس طرح ان کی شادی کا انتظام ہوا اور کیا کیا واقعات انہیں پیش آئے مگر اس کے برعکس حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سوانح حیات کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے۔صرف ان کی اولاد کی ایک مختصری فہرست دے کر اس کے بعد حضرت الحق و حضرت یعقوب علیہما السلام کے سوانح حیات کا ذکر مفصل کرتی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ کنعان وفلسطین کی تاریخ قدیم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا کوئی مقام نہیں جبکہ خطہ عرب اور اس کی تاریخ میں ان کا اور ان کی اولاد کا تذکرہ پایا جاتا ہے اور اس کے طول و عرض میں ان کے آثار جا بجا ملتے ہیں۔یہ امر ثبوت ہے اس بات کا کہ عرب کا علاقہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جائے ہجرت ہے۔جس میں وہ ایسے طور سے جاہیسے کہ ان کا تعلق ارض کنعان سے تقریبا منقطع ہو گیا اور یہ کہ ان کے مادی ومسکن اور ان کے سوانح حیات سے متعلق عربوں کی تاریخ قدیم زیادہ قابل اعتبار ہے؛ بہ نسبت عہد قدیم کی کنعانی تاریخ کے جو اس بارے میں خاموش ہے یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس اس اعتراض کا کوئی جواب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حضرت