صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 256 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 256

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۵۶ ٢٥-كتاب الحج غرض ان چار روایتوں کا بلا وجہ اعادہ نہیں کیا گیا بلکہ بلحاظ مضمون وہ ایک دوسرے کے لئے بطور تتمہ ہیں۔رہا یہ امر کہ ان روایتوں سے فضیلت مکہ کیسے ثابت ہوتی ہے؟ مندرجہ روایتوں کا تعلق در اصل عنوان باب کے دوسرے حصے سے ہے۔یعنی تعمیر مکہ سے اور فضیلت کے بارہ میں آیت محولہ بالا پیش کی گئی ہے جس سے واضح ہے کہ مکہ مکرمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنا کے مطابق روحانی فیوض و برکات میں مرجع خلائق بنا اور لوگوں کو یہ حکم ہوا: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّی (البقرۃ:۱۲۶) کہ مقام ابراہیم کو اپنی نماز گاہ بناؤ۔کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دنیا کے سامنے سب سے پہلے واضح طور پر کامل نمونہ اس امر کا پیش کیا ہے کہ محبت الہی میں عاشقانِ الہی کو کس کس قسم کی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔عہد قدیم کی تاریخ کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خداوند کے لئے ارض موعودہ میں متعدد قربان گاہیں قائم کیں۔ایک کنعان میں بمقام نابلس ( پیدائش ۷:۱۲) دوسری قربان گاہ جو تورات میں بیت ایل کے نام سے موسوم کی گئی ہے۔نابلس کی قربان گاہ کو بھی بیت ایل یعنی بیت اللہ کہا گیا ہے۔( پیدائش ۸:۱۲) چنانچہ یہ مقام تاریخ میں خاص طور بیل کے نام سے مشہور ہے جو نابلس اور خلیل الرحمن کے عین درمیان بیت المقدس سے سات میل کے فاصلہ پر واقع ہے اور یہ حضرت یشوع کی پہلی فتح کا مقام ہے۔آج کل اسے بلیتین کہتے ہیں۔تیسری قربان گاہ دکن کی طرف سفر کرتے ہوئے بر شیبہ میں بنائی۔یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دو کنویں اور حضرت اسحاق علیہ السلام نے پانچ کنویں کھدوائے جس سے اس جگہ کا نام بر سبع ( سات کنویں) مشہور ہوا۔شیبہ کے معنی قسم قسم کا کنواں۔یہاں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جنوب کی طرف پے در پے سفر کرتے ہوئے مصر کا رخ کیا۔( پیدائش ۹:۱۲) تورات کے بیان کے مطابق ایک چوتھی قربان گاہ حبرون (خلیل الرحمن) میں بنائی۔( پیدائش ۱۸:۱۳ ) ان امور سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ آپ کے یہ سفر اور آپ کی یہ قربان گاہیں کسی خاص حکم اور معین مقصد کے ماتحت تھیں۔توحید کی خاطر اپنے خویش و اقارب اور اپنا ملک و وطن چھوڑنے اور اپنے اکلوتے بیٹے کا ذبیحہ پیش کرنے پر آمادگی کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دو بشارتیں متعدد بار دیں؛ کثرت نسل اور موعودہ ملک کی وراثت۔( پیدائش ۱۳: ۱۵ تا ۱۷) اور انہیں حکم دیا کہ اس زمین کے طول و عرض میں چکر لگاؤ۔مشرق و مغرب میں بھی اور شمال و جنوب میں بھی۔دراصل ہجرتِ ابراہیمی کی ابتداء ایک مہتم بالشان حکم اور وعدہ الہی کے ساتھ ہوئی تھی۔(پیدائش ۱۲: ۱ تا ۳) اور ارض موعودہ میں کنعان، عرب و مصر وغیرہ کے علاقے بھی شامل تھے۔( پیدائش ۱۸:۱۵) عہد قدیم کی تاریخ اور جغرافیہ سے ناقابل انکار شہادت ملتی ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی اولا د ارض حجاز میں چاروں طرف پھیل گئی تھی۔ان کے بیٹوں کے نام قیدار، دوماہ، تیماء وغیرہ کے علاقہ جات اب تک مشہور ہیں۔تفصیل کیلئے دیکھئے فصل الخطاب - آنحضرت ﷺ کے متعلق تیسری بشارت حضرت اسماعیل کے بیٹوں کی سکونت گاہ صفحہ ۲۷۹ تا ۲۸۲) اہل عرب کی قومی روایات اور مذہبی رسومات کا ابراہیمی طریق عبادت (طواف ) اور مناسک ابراہیمی یعنی قربانی وغیرہ سے مطابقت نیز ان کے درمیان عہد کا نشان یعنی ختنہ کی رسم کا پایا جانا جو حضرت اسماعیل کی ولادت پر بطور نشانِ ابدی عہد قائم ہوا۔( پیدائش باب ۱۷) علاوہ ازیں حضرت ابراہیم علیہ السلام وحضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف عربوں کا