صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 255 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 255

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۵۵ ٢٥ - كتاب الحج ضرور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے ہی مناسک حج کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔حتی کہ زمانہ جاہلیت میں بیت اللہ میں اعتکاف بھی ہوتا تھا۔( روایت نمبر ۲۰۳۲) چنانچہ قرآنِ مجید میں مناسک کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَاذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَّا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا وَطَهِرُ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِهِ وَأَذِنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (الحج: ۳۸،۳۷) یعنی اور (یاد کر ) جب ہم نے ابراہیم کو بیت اللہ کی جگہ پر رہائش کا موقع دیا ( اور کہا) کہ کسی چیز کو ہمارا شریک نہ بناؤ اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لئے اور کھڑے ہو کر عبادت کرنے والوں کے لئے اور رکوع کرنے والوں کے لئے اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک کر اور تمام لوگوں میں اعلان کر دے کہ وہ حج کی نیت سے تیرے پاس آیا کریں پیدل بھی اور ہر ایسی سواری پر بھی جو لمبے سفر کی وجہ سے دبلی ہوگئی ہو۔(ایسی سواریاں ) دور دور سے گہرے راستوں پر سے ہوتی ہوئی آئیں گی۔اس آیت سے بھی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور نشاندہی پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وادی مکہ میں بیت اللہ کی بنیاد نئے سرے سے اٹھا کر مناسک حج کی سنت جاری کی ہے۔یہ خلاصہ ہے اس موضوع کا ؛ جس کے لئے اس باب میں فضیلت مکہ کا عنوان قائم کر کے اس کی طرف آیات محولہ بالا سے اشارہ کیا گیا ہے۔(اس تعلق میں باب نمبر ۲۰ کی تشریح بھی دیکھئے۔باقی روایتیں بھی قریش کی اس نئی تعمیر سے متعلق ہیں۔ان کا خلاصہ یہ ہے کہ قریش نے سابقہ بنیاد سے ہٹا کر اسے بنایا جو جگہ چھوڑی گئی تھی اسے حطیم یا حجر کہتے ہیں۔بوقت طواف اس کو بیت اللہ کا حصہ سمجھ کر اسے طواف میں شامل کیا جاتا ہے۔قریش کے پاس سامان تعمیر کم ہو گیا تھا ؛ اس لئے انہوں نے چھوٹا کر دیا۔البتہ اس کی اونچائی دُگنی کر دی گئی۔اس کے اندر چھ ستون بنائے گئے اور اس پر چھت بھی ڈالی گئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تو بے چھت چو کور کوٹھا سا بنایا تھا۔قریش نے اس دفعہ اس کا ایک دروازہ بھی رکھا جو زمین سے بہت اونچا اور تنگ تھا تا لوگ اپنی مرضی سے داخل ہونے کی کوشش نہ کریں۔داخل کرنے والوں کی مرضی کے مطابق داخل ہوں۔(روایت نمبر ۱۵۸۴) فَذَلِكَ الَّذِى حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْر عَلَى هَدْمِهِ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ بیت اللہ اصل بنیادوں پر بنایا جائے اور دروازہ اونچا نہ ہو۔سطح زمین کے قریب ہو اور اس کے مقابل میں ایک اور دروازہ غربی جانب رکھا جائے تا لوگوں کو اندر آنے اور باہر جانے میں سہولت رہے۔مگر اس اندیشہ سے کہ لوگ ابتلا میں پڑیں گے آپ نے ایسا نہیں کیا 1 ھ میں آتش زدگی سے جب کعبہ کو نقصان پہنچا تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے اس کی دوبارہ تعمیر کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے مطابق حطیم کو بھی شامل کر لیا۔انہوں نے کعبہ کے اندر بجائے چھ ستونوں کی جگہ صرف تین ستون ہی بنوائے۔لیکن عبد الملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کے ذریعے گروا کر پھر بیت اللہ کو جیسا پہلے تھا ویسا ہی بنوا دیا۔صرف تین ستونوں والی تبدیلی بحال رکھی اور توجیہ یہ کی کہ جس بات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ؟ اسے کرنے کا حق کسی کو نہیں پہنچتا اور روایت مذکورہ بالا میں اسی واقعہ کا ذکر ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۵۶۴۵۶۲)