صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 254 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 254

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۵۴ ٢٥ - كتاب الحج اکتشافات ان کے آثار قدیمہ کو برسر مطالعہ لا رہے ہیں۔ان سب پر نظر غائر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں جب سلطنت شیبہ عروج پر تھی ، اس کے تعلقات عربوں کے ساتھ بھی تھے۔یہی سامی مہاجر عراق میں آرامی، شام میں آموری، کنعان وغیرہ میں کنعانی اور موآبی اور مصر میں رعاة (چرواہے ) کہلائے اور مؤرخین نے ان سب کو عمالقہ کے نام سے موسوم کیا ہے۔کلدانی ور عبرانی قوم بھی انہیں میں سے ایک شاخ تھی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام بعد میں عبرانیوں کے جدامجد ہوئے۔آپ کی پیدائش حضرت مسیح علیہ السلام سے دو ہزار سال قبل کلدانی شہر اور ( عراق عرب ) میں ہوئی۔بعد میں آپ اپنے والد کے ساتھ حران علاقہ میں منتقل ہوئے جو اور کے مغرب میں واقع تھا اور آخر مذ ہبی مخالفت کی شدت پر آپ کو حران سے کنعان میں ہجرت کرنی پڑی اور یہاں سے آپ کی دور دور سفروں کی تاریخ شروع ہوتی ہے۔جس کا کچھ ذکر تو عہد قدیم کے صحیفوں میں پایا جاتا ہے اور کچھ زبان زدروایات و عربوں کے رسم ورواج میں۔دیباچه قوافل العرو به جز اول از محمد جمیل هم بیروتی) یہ ساری قو میں جن کا ذکر اختصار سے اوپر کیا گیا ہے ہر دور میں آپس میں تعلقات رکھتی رہی ہیں۔جن کا ثبوت ان کی زبان سے بھی ملتا ہے اور تحریری کتبوں سے بھی جو تصویری زبان میں ہیں۔پہلے خیال تھا کہ اس زبان کے موجد اول مصر کے سامی تھے مگر اب تازہ آثار سے ثبوت بہم پہنچا ہے کہ قدیم ترین سامی عرب تصویری زبان کے موجد اول ہیں نہ کہ مصری۔قدیم مصریوں نے ان سے یہ طرز تحریر حاصل کی تھی۔ارض حجاز نہایت ہی قدیم وقتوں میں جو موجودہ اصطلاح میں از منه قبل از تاریخ کے نام سے موسوم ہیں؛ بہت بڑی سلطنتوں کا گہوارہ عرصہ دراز تک بنی رہی اور مختلف جگہوں میں دفن شدہ قدیم آبادیوں کے کھنڈرات اور کتبے تصویری زبان میں جو آج کل برآمد ہو رہے ہیں پتہ دیتے ہیں کہ وادی مکہ اقوامِ قدیمہ عاد و ثمود وغیرہ کامذہبی مرکز تھی۔خود قرآن مجید نے ان کا ذکر کیا ہے۔(دیکھئے سورۂ ق ) محمد نعمان جارم مصری عالم نے اپنی تصنیف ادیان العرب في الجاهلية" میں بیت اللہ کی قدامت کے بارے میں بعض روایتیں بھی نقل کی ہیں جن سے وادی مکہ کی قدیم ترین مذہبی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔اديان العرب في الجاهلية، تعظيم العجم والعرب الكعبة، صفحه ۳۲) قرآنِ مجید نے إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَةَ آل عمران: ۹۷) فرما کر بیت اللہ کو پہلا گھر عبادتِ الہی کا قرار دیا ہے۔نیز فرمایا: وَلْيَطُوفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ (الحج:۳۰) یعنی چاہیے کہ وہ بیت عقیق کا طواف کریں۔عقیق کے معنی قدیم اور دنیاوی حکومتوں سے آزاد۔ان دونوں آیتوں سے ظاہر ہے کہ بیت اللہ باعتبار قدامت اولیت سے ممتاز ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ارض بابل سے ہجرت اور کنعان میں سکونت اور اپنے اہل بیت اور ذریت میں سے ایک حصہ کو دور دراز سفر کی مشقت برداشت کر کے بے آب و گیاہ وادی کے کنارے رہنا اور ان کا اس میں آباد کرنا بلا وجہ نہیں ہوسکتا تھا اور زمانہ جاہلیت سے عربوں میں بیت اللہ کا حج، عمرہ اور اس کا طواف اور اس میں اعتکاف اور باقی مقامات میں عبادت اور قربانی کا وجود بھی بتاتا ہے کہ انہوں نے ملت ابراہیمی کی یادگار ایک حد تک قائم رکھی ہے۔اس سے کم از کم اتنا