صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 11
صحيح البخاری جلد۳ || ٢٤ - كتاب الزكاة مَنْ وَرَاءَنَا قَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعِ اور پھر جو ہمارے پیچھے ہیں ان کو اس کی طرف دعوت وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعِ الْإِيْمَانِ بِاللَّهِ ہیں۔آپ نے فرمایا: میں تم کو چار باتیں کرنے کا حکم وَشَهَادَةِ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَقَدَ بِيَدِهِ دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں۔اللہ پر ایمان هَكَذَا وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ لانا اور یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی انگلی کو کھڑا کر کے اس طرح اشارہ کیا۔(یعنی وَأَنْ تُوَدُّوْا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ ایک کام اور نماز کو سنوار کر پڑھنا اور زکوۃ دینا اور یہ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ کہ جو مال غنیمت تمہیں حاصل ہو؟ اس کا پانچواں وَالْمُزَقَّتِ وَقَالَ سُلَيْمَانُ وَأَبُو النُّعْمَانِ حصہ ادا کرنا اور میں تمہیں کدو کے تو نے اور سبر لاکھی عَنْ حَمَّادٍ الْإِيْمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لَّا مرتان اور کریدی ہوئی لکڑی کے باسن اور روغنی برتن إِلَهَ إِلَّا اللهُ سے منع کرتا ہوں اور سلیمان ( بن حرب ) اور ابو نعمان نے حماد سے روایت کرتے ہوئے ( یوں ) کہا: اللہ پر ایمان لانا اور گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اطرافه ،۵۳ ،۸۷ ۵۲۳ ۳۰۹۵، ۳۵۱۰، ٤٣٦۸ ٤٣٦٩ ٦١٧٦، ٧٢٦٦، ٧٥٥٦۔۱۳۹۹ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ ۱۳۹۹: ابوالیمان حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا، ابْنُ نَافِعِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ) کہا :) شعیب بن ابی حمزہ نے ہمیں بتایا کہ زہری سے عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ روایت ہے کہ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ابوہریرہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اللهِ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عربوں رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ میں سے جنہوں نے انکار کرنا تھا ، انکار کیا تو حضرت الْعَرَبِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَيْفَ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں؛ اس وقت