صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 253 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 253

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۵۳ ٢٥ - كتاب الحج ( فکر روزگار سے آزاد ہوکر یکسوئی سے ) نماز قائم کریں۔فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسَ تَهْوِي إِلَيْهِمُ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف محبت سے مائل کر دے اور اس طرح ان کے رزق و امن کا سامان قہر و جبری وسائل سے نہیں بلکہ محبت اور اخلاق فاضلہ کی حکومت سے ہو۔جس کا تختہ دلوں پر قائم ہوتا ہے۔اس ابراہیمی دعا کی قبولیت کی طرف اشارہ کر کے سورۃ القریش میں اللہ تعالیٰ قریش پر احسان جتاتا ہے اور فرماتا ہے: فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ من خوف قریش کو چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں (نہ کہ کسی اور کی ) وہ رب جس نے کھانے کو بھی دیا اور خوف و خطر سے بچایا۔غرض شہر مکہ کی مشار الیہ فضیلت اپنی ذات میں نہیں۔بلکہ بیت اللہ کی وجہ سے ہے اور اس مقصد عظیم کے طفیل یہ فضیلت ہے جس کے لئے اس گھر کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں سے از سرنو رکھی گئی تھی۔اس باب میں پانچ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ایک روایت حضرت جابر بن عبداللہ کی ۱۵۸۲ اور باقی روایتیں حضرت عائشہ کی چار سندوں سے ( نمبر ۱۵۸۳ تا ۱۵۸۶) ہیں۔حضرت جابز کی روایت تو مرسل ہے خود حضرت جابر تعمیر کعبہ کے وقت موجود نہ تھے اور یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کسی شخص سے یہ واقعہ سنا ہے۔ان کی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب بیت اللہ نئے سرے سے بنایا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں شریک تھے۔آس پاس کی پہاڑیوں سے آپ بھی اپنے چا حضرت عباس کے ساتھ پتھر ڈھوتے تھے۔اس واقعہ سے متعلق مختلف روایتیں ہیں جو بوجہ غیر مستند ہونے کے امام موصوف نے قبول نہیں کیں۔قرآنِ مجید کی آیت إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَةَ ( آل عمران (۹۷) میں تصریح ہے کہ سب سے پہلا گھر جس کی بنیا دلوگوں کی عبادت کے لئے رکھی گئی وہ ہے جو وادی مکہ میں ہے اور جسے سورہ حج آیت ۳۰ ۳۴۷ میں اَلْبَيْتُ الْعَتِيقِ (یعنی قدیم گھر ) بھی کہا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کی وحی کے تحت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے [وَإِذْ يَرْفَعُ إبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ۔۔۔(البقرۃ:۱۲۸) | اس کی بنیادوں کو دوبارہ بلند کیا۔حضرت ابراہیم کلدانی تھے اور ان کی پیدائش خاندان حمورابی کی پہلی سلطنت بابل کے ایام میں ہوئی۔حمورابی عموری خاندان کا چھٹا بادشاہ تھا۔یہ زمانہ حضرت مسیح علیہ السلام سے دو ہزار چار سو ساٹھ سال قبل کا ہے۔عاد اور ثمود کا زمانہ اس سے قبل کا ہے۔قرآن مجید میں ان قوموں کا ذکر وارد ہوا ہے کہ ان میں بھی نبی مبعوث ہوئے تھے۔جب شامیوں کی ہجرت عرب کے جنوبی علاقوں سے چار ہزار سال قبل مسیح عراق عرب کی شاداب وادیوں میں ہوئی تو عاد ثمود کی قو میں علاقہ جات دو ، دھناء، عالج، پیرین دبار اور حضرموت میں عمان اور یمن کے علاقہ جات اور حجر اور وادی قری وغیرہ میں آباد تھیں۔حضرت ہود نبی ان میں بھیجے گئے اور حضرت صالح نبی قوم ثمود میں مبعوث ہوئے۔حضرت شعیب علیہ السلام مدین میں مبعوث ہوئے۔ان کا علاقہ ہوازن تھا جو اطراف شام سے متصل تھا۔مدین سمندر کے کنارے عقبہ کے قریب ان کا تجارتی مرکز تھا۔اس دور کی تاریخ کے اوراق پارینہ کی داستان کچھ تو عہد نامہ قدیم میں موجود ہے اور کچھ زبان زد خلائق قصوں اور رسم و رواج میں جھلک دکھاتی ہے جنہیں علامہ طبری نے اپنی تاریخ میں محفوظ کر لیا ہے اور اب موجودہ زمانے کے حیرت انگیز