صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 252
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۵۲ ٢٥-كتاب الحج الَّذِي حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ دروازے رکھنا ایک شرقی اور ایک غربی۔اور ابراہیمی عَنْهُمَا عَلَى هَدْمِهِ قَالَ يَزِيدُ وَ شَهِدْتُ بنیاد تک اس کو لے جاتا۔اس بات نے (حضرت ابْنَ الزُّبَيْرِ حِيْنَ هَدَمَهُ وَبَنَاهُ وَأَدْخَلَ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو بیت اللہ کے گرانے فِيْهِ مِنَ الْحِجْرِ وَقَدْ رَأَيْتُ أَسَاسَ پر آمادہ کیا۔یزید کہتے تھے: میں حضرت ابن زبیر کے پاس موجود تھا؛ جب انہوں نے اس کو گرایا اور بنایا اور إِبْرَاهِيمَ حِجَارَةً كَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ قَالَ اس میں حطیم کو داخل کیا اور میں نے ابراہیمی بنیاد کے جَرَيْرٌ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ مَوْضِعُهُ قَالَ أُرِيْكَهُ پھر بھی دیکھے جو اونٹوں کے کو ہانوں جتنے تھے۔جریر الْآنَ فَدَخَلْتُ مَعَهُ الْحِجْرَ فَأَشَارَ إِلَى کہتے تھے کہ میں نے ( یزید بن ہارون سے) پوچھا مَكَانٍ فَقَالَ هَاهُنَا قَالَ جَرِيْرٌ فَحَزَرْتُ کہ ابراہیمی بنیاد کی جگہ کہاں ہے؟ تو انہوں نے کہا: مِنَ الْحِجْرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا۔میں ابھی تم کو دکھائے دیتا ہوں۔چنانچہ میں ان کے ساتھ حطیم میں داخل ہوا تو انہوں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: یہاں ہے۔جریر کہتے تھے: میں نے حطیم کا چھ ہاتھ یا اس کے قریب اندازہ کیا۔اطرافه ،۱۲۶، ١٥۸۳، ١٥٨٤، ١٥٨٥، ٣٣٦٨، ٤٤٨٤، ٧٢٤٣۔تشریح: فَضْلُ مَكَّةَ وَبُنْيَانُهَا : عنوانِ باب میں مکہ کی فضیلت اور اس کی تعمیر کا ذکر ہے اور اس ضمن میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں بیت اللہ کے قبلہ ٹھہرائے جانے کے ذکر کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دو دعائیں درج ہیں۔اوّل رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا۔یعنی اے میرے رب اس مقام کو پر امن شہر بنا اور دوسری وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ اس کے باشندوں کو رزق اور ثمرات ( ثمرہ محنت کا نتیجہ یعنی بارو بر ) عطا کر۔اس دعا کے پیش نظر عنوان میں مکہ کی تعمیر کا ذکر نمایاں کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ تعمیر بیت اللہ کی غرض و غایت ہی کی وجہ سے مکہ کو فضیلت حاصل ہوئی اور وہ غرض یہ تھی کہ بیت اللہ توحید باری تعالیٰ کا گھر بنایا اور اسے ہر ایک قسم کے شرک اور صنم پرستی سے محفوظ رکھا جائے تا معتکفین اور رکوع و سجود کرنے والے اپنی دنیاوی ضروریات زندگی سے فارغ البال ہو کر خدا تعالیٰ کی عبادت پر امن فضا میں کر سکیں۔(ابراهیم: ۳۵ تا ۳۸) ان آیات میں بھی اسی ابراہیمی دعا کا ذکر کیا گیا ہے: اِنِّی اَسْكَنُتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ یعنی میں نے اپنی ذریت کو بے آب و گیاہ وادی میں آباد کر دیا ہے۔جہاں اسباب معیشت کی کوئی صورت نہیں اور غیر آباد پہاڑوں اور لق و دق بیابان میں واقع ہونے کی وجہ سے وہ امن کی جگہ بھی نہیں تو انہیں رزق دے اور اس جگہ کو حرم پر امن بنا۔رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ۔اے ہمارے پروردگار! تا وہ