صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 247
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۴۷ ٢٥ - كتاب الحج سند صحیح بخاری نہ صرف مسائل متعلقہ عقائد و اعمال ہی کی کتاب ہے بلکہ تاریخی واقعات کو بھی صحیح طور : پر ضبط کرتی ہے۔ اس لئے اس کا نام جامع رکھا گیا ہے۔ آگے جا کر اس کتاب کی جامعیت واضح سے واضح تر ہوتی جائے گی۔ ان روایتوں کے اختیار کرنے اور ان کو ترتیب دینے میں امام بخاری نے عمیق غور و فکر سے کام لیا ہے۔ اس سے جرح اور تعدیل میں بھی ان کی نظر ثاقب کا پتہ چلتا ہے۔ ہشام بن عروہ سے پانچ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ پہلی روایت ( نمبر ۷ ۱۵۷) سفیان بن عیینہ ہلالی سے مروی ہے جو صحت وضبط حدیث اور روایت میں ہر پہلو سے باتفاق اعلی درجہ کے ثقہ مانے گئے ہیں۔ یہ تابعی ہیں۔ ۱۰۷ھ میں مقام کوفہ میں پیدا ہوئے اور مکہ مکرمہ میں فوت ہوئے ۔ سن وفات ۶۷ ھ ہے۔ زہری کے شاگرد تھے۔ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل اور سفیان ثوری جیسے علماء نے ان سے علم حدیث اخذ کیا۔ (تهذیب التهذيب، من اسمه سفيان- سفيان بن عیینہ مسردگی تائید میں ان کی روایت پیش کی گئی ہے اور یہ روایت معقول ہے۔ تیسری روایت (نمبر ۱۵۷۸) بھی معقول ہے جو ابو اسامہ حماد بن اُسامہ سے مروی ہے اور اس میں بظاہر یہ سقم ہے کہ گدی پہاڑی اونچائی پر واقع شدہ بتائی گئی ہے۔ امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ ابو اسامہ سے یہ غلطی نہیں ہوئی بلکہ محمود بن غیلان سے ہوئی۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۵۵۲) روایت کا یہ سقم عمر و بن حارث اور حاتم بن اسماعیل کی روایتوں سے دور کیا گیا ہے۔ (روایت نمبر ۱۵۸۰،۱۵۷۹) عمر و آنحضرت صلی الله اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت جویریہ کے بھائی کے بھائی تھے۔ یہ دونوں راوی ثقہ ہیں اور ان کی روایتوں میں گداء گھائی اونچائی پر واقع شدہ بیان کی گئی ہے۔ پانچویں روایت (نمبر (۱۵۸) وہیب بن خالد سے منقول ہے۔ اس میں بیان ہے کہ گداء عروہ بن زبیر کے گھر کے قریب واقع ہے۔ اس سے قبل کی روایت (نمبر ۱۵۸۰) جو حاتم سے مروی ہے وہ بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔ یہ دونوں روائیتیں ( نمبر ۱۵۸۰، ۱۵۸۱) مرسل ہیں ۔ مگر تیسری روایت (نمبر ۱۵۷۹) جو عمر و بن حارث سے موصولاً مروی ہے ان کے خلاف ہے۔ اس میں سلامی کا موقع ان کے مکان سے قریب بیان کیا ہے جس سے وہ اکثر آیا جایا کرتے تھے۔ مرسلر تھے۔ مرسل روایتوں ( نمبر ۱۵۸۱،۱۵۸۰) پر موصول روایت ( نمبر ۱۵۷۹) مقدم کی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر کے مکانات کا محل وقوع اب تک محفو ع اب تک محفوظ بتایا جاتا ہے اور وہاں جو خاندان ہے وہ اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتا ہے۔ یہ گھر صفا و مروہ کے درمیان مردہ مقام کے قریب واقع ہے۔ گداء والا راستہ مقبرہ معلی ۔ سے ہوتا ہوا صفا و مروہ کے درمیان سے گذرتا ہے جو صفا کی نسبت دامن مردہ سے زیادہ قریب ہے۔ باب ٤٢ : فَضْلُ مَكَّةَ وَبُنْيَانُهَا مکہ کی فضیلت اور اس کا بنایا جانا وَقَوْلُهُ تَعَالَى: وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: (یعنی وہ وقت بھی یاد کرو) مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَآمَنَّا وَاتَّخِذُوا مِنْ جب ہم نے اس گھر یعنی کعبہ کو اجتماع کی جگہ اور