صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 246 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 246

صحيح البخاری جلد ۳ كَدَاءٌ وَكُدًا مَوْضِعَانِ۔۲۴۶ ٢٥ - كتاب الحج ان کے گھر سے زیادہ قریب تھا۔ابو عبد اللہ ( بخاری ) نے کہا: کداء اور کدی دو جگہیں ہیں۔اطرافه: ١٥٧٧، ۱۵۷۸، ۱۵۷۹، ١۵۸۰، ٤٢٩٠، ٤٢٩١۔تشریح: ٢٠٠ يَدْخُلُ مِنَ الشَّنِيَّةِ العُلْيَا وَيَخْرُجُ مِنَ الشَّنِيَّةِ السُّفْلَى : اونچی گھائی جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ یا حج کے موقع پر داخل ہوئے گداء کہلاتی ہے اور وہ گھائی جو نشیب میں واقع ہے اور جس سے آپ کوٹے اس کا نام گدی ہے۔امام موصوف نے عنوانِ باب کو استفہامیہ رکھ کر اس سوال کی طرف اشارہ کیا ہے جو محققین کے زیر بحث رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس راستے سے مکہ میں داخل ہوئے۔مدینہ سے آتے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لئے ایک راستہ گداء کی گھائی سے گزرتا ہے جو دو پہاڑیوں کے درمیان واقع ہے اسے مجون بھی کہتے ہیں۔اب یہاں سے راستہ مقبرہ معلی میں سے گزرتا ہے۔دوسرا راستہ شادی سے گذرتا ہے۔یہ بھی گھائی ہے جو گداء سے نیچی ہے۔ثَنِيَّة عربی زبان میں دو پہاڑیوں کے درمیان واقع گھائی کو کہتے ہیں۔فتح مکہ کے روز بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گداء گھائی سے ہو کر شہر میں داخل ہوئے۔یہ گھائی سب سے اونچی پہاڑیوں کے درمیان ہے۔اس سے سارا شہر نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اعمال میں نیت اور معنوی مناسبت نمایاں ہے۔گداء کی گھائی پر مشکل سے چڑھا جا تا تھا۔حسان بن ثابت قریش کو مخاطب کرتے اور کہتے ہیں :- عَدِمُتُ بَنِيَّتِي إِنْ لَّمْ تَرَوْهَا تَثِيرُ النَّقْعَ مَطْلَعُهَا كَدَاء یعنی تم دیکھو گے کہ محد صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر اسی مشکل گھائی سے غبار اڑاتے ہوئے مکہ میں داخل ہوگا۔اگر ایسا نہ ہوا تو میں اپنی اکلوتی پیاری بچی سے محروم ہو جاؤں۔اس گھائی کے راستے کو فراخ اور ہموار کر دیا گیا ہے تا حاجیوں کے لئے آسانی ہو۔(فتح الباری جزء ۳ صفحه ۵۵۳٬۵۵۲) هُوَ مُسَدَّدٌ كَاسمه باب ۴۱ کی پہلی روایت ( نمبر ۱۵۷۶) جو مسدد بن مسرہد سے مروی ہے نقل کرنے کے بعد امام بخاری نے انہیں غایت درجہ ثقہ قرار دیا ہے اور اپنی اس رائے کی تائید میں بھی بن معین کی شہادت بھی نقل کی ہے۔سجی بن معین فن جرح و تعدیل میں امام مانے گئے ہیں۔اسی طرح یحی بن سعید قطان بھی۔(عمدۃ القاری جزء 9 صفحہ ۲۱۰،۲۰۹) مسدد کے معنی ہیں صراط مستقیم کو ہمیشہ اختیار کرنے والا۔مسدد بن مسرہد کا یہ تعارف بلا وجہ اور بے محل نہیں۔لفظ گداء اور گدی نے بوجہ مشابہت حرفی مؤرخین کے لئے شبہ پیدا کر دیا تھا کہ مکہ کے اردگرد کی پہاڑیوں میں سے کونسی پہاڑی گداء اور کونسی کدی تھی۔زیر باب عروہ ہی کی روایات (۱۵۸۰،۱۵۷۹) میں کبھی گداء ہے اور کبھی گدی۔اس شبہ کے ازالہ کی غرض سے روایت نمبر ۱۵۸ کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ گداء اور محدی دو الگ الگ جگہیں ہیں۔مکہ مکرمہ متعدد پہاڑیوں کے درمیان وادی بطحاء میں واقع ہے اور لوگ ان پہاڑیوں سے گزر کر شہر میں داخل ہوا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز اور اس کے بعد ایام حج وغیرہ میں داخل شہر ہونے کے لئے سب سے اونچی اور مشکل گھائی کو اختیار فرمایا۔اس بارہ میں جو روایات نقل کی گئی ہیں، ان میں مسدد کی روایت صحیح اور واضح ہے۔