صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 246
صحيح البخاری جلد ۳ كَدَاءً وَكُدًا مَوْضِعَانِ۔ ٢٥ - كتاب الحج ان کے گھر سے زیادہ قریب تھا۔ ابو عبد اللہ ( بخاری ) نے کہا: کداء اور کوئی دو جگہیں ہیں۔ اطرافه: ١٥٧٧، 1٥٧٨، 1579، 1580، ٤٢٩٠، ٤٢٩١۔ تشريح ۔ يَدْخُلُ مِنَ النَّبِيَّةِ الْعُلْيَا وَيَخْرُجُ مِنَ النَّبِيَّةِ السُّفْلَى : او کی گائی جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ یا حج کے موقع پر داخل ہوئے گداء کہلاتی ہے اور وہ گھائی جو نشیب میں واقع ہے -------- اور جس سے آپ لوٹے اس کا نام گدی ہے۔ امام موصوف نے عنوانِ باب کو استفہامیہ رکھ کر اس سوال کی طرف اشارہ کیا ہے جو محققین کے زیر بحث رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس راستے سے مکہ میں داخل ہوئے۔ مدینہ سے آتے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لئے ایک راستہ گداء کی گھائی سے گزرتا ہے جو دو پہاڑیوں کے درمیان واقع ہے اسے مجون بھی کہتے ہیں۔ اب یہاں سے راستہ مقبرہ معلی میں سے گزرتا ہے۔ دوسرا راستہ گلی سے گذرتا ہے۔ یہ بھی گھائی ہے جو گداء سے نیچی ہے۔ ثَنِيَّة عربی زبان میں دو پہاڑیوں کے درمیان واقع گھائی کو کہتے ہیں ۔ فتح مکہ کے روز بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سداء گھاٹی سے ہو کر شہر میں داخل ہوئے ۔ یہ گھائی سب سے اونچی پہاڑیوں کے درمیان ہے۔ اس سے سارا شہر نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اعمال میں نیت اور معنوی مناسبت نمایاں ہے۔ گداء کی گھائی پر مشکل سے چڑھا جاتا تھا۔ حسان بن ثابت قریش کو مخاطب کرتے اور کہتے ہیں :- عَدِمُتُ بَنِيَّتِي إِن لَّمْ تَرَوْهَا تثيرُ النَّقْعَ مَطْلَعُهَا كَدَاء یعنی تم دیکھو گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر اسی مشکل گھائی سے غبار اڑاتے ہوئے مکہ میں داخل ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میں اپنی اکلوتی پیاری بچی سے محروم ہو جاؤں۔ اس گھائی کے راستے کو فراخ اور ہموار کر دیا گیا ہے تا حاجیوں کے لئے آسانی ہو۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۵۵۳٬۵۵۲) هُوَ مُسَدَّدٌ كَاسْمِهِ : باب ۴۱ کی پہلی روایت ( نمبر ۱۵۷۶) جو مسدد بن مسرہد سے مروی ہے نقل کرنے کے بعد امام بخاری نے انہیں غایت درجہ ثقہ قرار دیا ہے اور اپنی اس را۔ س رائے کی تائید میں یحی بن معین کی شہادت بھی نقل کی رائے کی تا ہے۔ یحی بن معین فن جرح و تعدیل میں امام مانے گئے ہیں۔ اسی طرح یحی بن سعید قطان بھی۔ (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۲۱۰،۲۰۹) مسدد کے معنی ہیں صراط مستقیم کو ہمیشہ اختیار کرنے والا ۔ مسدد بن مسرہد کا یہ تعارف بلا وجہ اور بے حمل ربے محل نہیں۔ لفظ گداء اور سدی نے بوجہ مشابہت حرفی مؤرخین کے لئے شبہ پیدا کر دیا تھا کہ مکہ کے ارد گرد کی پہاڑیوں میں سے کونسی پہاڑی گداء اور کونسی سیدی تھی ۔ زیر باب عروہ ہی کی روایات (۱۵۸۰،۱۵۷۹) میں کبھی گداء ہے اور کبھی سیدی ۔ اس شبہ کے ازالہ کی غرض سے روایت نمبر ۱ ۱۵۸ کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ گداء اور شدی دو الگ الگ جگہیں ہیں۔ مکہ مکرمہ متعدد پہاڑیوں کے درمیان وادی بطحاء میں واقع ہے اور لوگ ان پہاڑیوں سے گزر کر شہر میں داخل ہوا کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز اور اس کے بعد ایام حج و حج وغیرہ میں داخل شہر ہونے کے لئے سب سے اونچی ر مشکل گھائی کو اختیار فرمایا۔ اس بارہ میں جو روایات نقل کی گئی ہیں ؟ ان میں مسہ میں مسدد کی روایت صحیح اور واضح ہے۔ اور