صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 245
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۴۵ ٢٥ - كتاب الحج عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عمرو بن حارث ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءِ أَعْلَى مَكَّةَ بِاپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی قَالَ هِشَامٌ وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ عَلَى کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال کداء سے جو مکہ کے بالائی جانب ہے داخل ہوئے۔ ہشام نے كِلْتَيْهِمَا مِنْ كَدَاءٍ وَكُدًا وَأَكْثَرُ مَا کہا: اور عروہ ان دونوں یعنی کداء اور کلامی سے داخل يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءٍ وَكَانَتْ أَقْرَبَهُمَا ہوئے اور اکثر کدئی سے داخل ہوتے اور یہ ان إِلَى مَنْزِلِهِ۔ کے گھر کے زیادہ قریب تھا۔ اطرافه: ١٥٧٧ ، ۱٥٧٨، ۱۵۸۰، 1581، ٤٢٩٠، ٤٢٩١۔ ١٥٨٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ ۱۵۸۰: عبداللہ بن عبد الوہاب نے ہم سے بیان الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ کیا، کہا:) حاتم (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔ عُرْوَةَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے عروہ سے روایت کی عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ کہ انہوں نے کہا:) نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال کداء سے داخل ہوئے جو کم جو کہ مکہ سے بلندی پر وَكَانَ عُرْوَةُ أَكْثَرَ مَا يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءِ ہے اور عروہ بھی اکثر کداء ہی سے داخل ہوتے اور وہ وَكَانَ أَقْرَبَهُمَا إِلَى مَنْزِلِهِ۔ مقام ان کے گھر سے زیادہ قریب تھا۔ اطرافه ١٥٧٧، ١٥٧٨، ١٥٧٩ ، ١٥٨١، ٤٢٩٠، ٤٢٩١۔ ١٥٨١ : حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ۱۵۸۱ موسیٰ ( بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا، وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيْهِ دَخَلَ (کہا:) وهيب ( بن خالد ) نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا:) النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت مِنْ كَدَاءٍ وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ مِنْهُمَا کی ۔ انہوں نے کہا :) صلى عليه نہوں نے کہا: ) فتح مکہ کے سال نبی علی کداء كِلَيْهِمَا وَأَكْثَرُ مَا يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءٍ سے داخل ہوئے اور عروہ اُن دونوں سے داخل ہو جایا أَقْرَبِهِمَا إِلَى مَنْزِلِهِ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ کرتے تھے اور اکثر کداء ہی سے داخل ہوتے جو کہ حمد فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ ”سیدا“ ہے۔ ( فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۵۵۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔