صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 242
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۲۴ ٢٥ - كتاب الحج باب ۳۹ : دُخُولُ مَكَّةَ نَهَارًا أَوْ لَيْلًا مکہ میں دن یا رات کو داخل ہونا بَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي في صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی طوئی میں رات گذاری طُوًى حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ وَكَانَ اور صبح تک وہیں رہے۔ پھر مکہ میں داخل ہوئے ۔ اور ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلُهُ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یہی کیا کرتے۔ ١٥٧٤ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۱۵۷۴ مسدد۔ نے ہم سے بیان کیا، ) کیا، کہا: ) يحي يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ بن سعید قطان ) نے ہمیں بتایا۔ عبید اللہ (عمری) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: نافع نے مجھ سے بَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بِذِي طُوًى حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ ذی طوی میں رات گزاری اور صبح تک وہیں رہے۔ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا پھر مکہ میں داخل ہوئے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما يَفْعَلُهُ ۔ اطرافه: ١٥٥٣، 1554، 1573۔ یہی کیا کرتے۔ ۔ تشريح : دُخُولُ مَكَّةَ نَهَارًا أَوْ لَيْل : روایت نمبر ۱۷۴ سے ظاہر ہے کہ حضور صلی الہ علیہ و صلى الله وسلم مکہ مکرمہ میں دن کے وقت داخل ہو ہوئے تھے اور حضرت ابن عمر بھی آ۔ عمر بھی آپ کی اتباع میں دن ہی کو اس میں داخل ہوتے ۔ اس سے بعض فقہاء نے دن کے وقت داخل ہونے کا استنباط کیا ہے ۔ امام بخاری نے عنوانِ باب میں او لیلا کہہ کر دونوں وقتوں میں داخل ہونے کو برابر قرار دیا ہے۔ عطاء بن ابی رباح کا ایک قول مروی ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت علی امام تھے اور دن کے وقت لوگوں کا استقبال کرنا آسان تھا۔ اس لئے ان کی سہولت کے لئے آپ مکہ مکرمہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے۔ دوسرے لوگ جب چاہیں داخل ہو سکتے ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۵۵۰) آنحضرت عمرہ جعرانہ کے لئے مکہ مکرمہ میں رات کو داخل ہوئے اور عمرہ کرنے کے بعد آپ نے جعرانہ میں قیام شب فرمایا اور پھر دوسرے دن سورج ڈھلنے پر وہاں سے روانہ ہوئے۔ یہ روایت نسائی نے نقل کر کے باب کا عنوان ان الفاظ سے قائم کیا ہے: دُخُولُ مَكَّةَ لَيْلًا۔ (نسائی، کتاب مناسک الحج، باب (۱۰۴) امام بخاری نے نسائی کی روایت اس لئے نظر انداز کی ہے کہ ان کی شرائط کے مطابق نہیں لیکن عنوان باب میں نَهَارًا أَوْ لَيْلًا سے مسئلہ کی بابت دونوں باتیں جائز رکھی ہیں اور اس لئے عنوان باب مصدر یہ ہے ۔ اگلا باب بھی ان مسائل سے متعلق ہے جن میں غلو سے کام لیا گیا ہے۔