صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 241 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 241

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۴۷۱ باب ۳۸ : الْاِغْتِسَالُ عِنْدَ دُخُول مَكَّةَ مکہ میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا ٢٥-كتاب الحج ١٥٧٣: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ ۱۵۷۳: یعقوب بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا إِبْرَاهِيْمَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ که (اسماعیل ) بن علیہ نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب عَنْ نَّافِعِ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ (سختیانی) نے ہمیں بتایا کہ نافع سے مروی ہے کہ عَنْهُمَا إِذَا دَخَلَ أَدْنَى الْحَرَمِ أَمْسَكَ انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا جب حرم عَنِ التَّلْبِيَةِ ثُمَّ يَيْتُ بِذِي طُوًى ثُمَّ سے قریب ترین مقام میں پہنچتے تو لبیک کہنے سے رک يُصَلِّي بِهِ الصُّبْحَ وَيَغْتَسِلُ وَيُحَدِّثُ جاتے۔پھر وہ وادی ذی طوی میں رات بسر کرتے أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اور صبح کی نماز بھی وہیں پڑھتے اور نہاتے اور بیان کرتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہی کیا کرتے تھے۔يَفْعَلُ ذَلِكَ۔اطرافه 1٥٥٣، 1554، 1574۔شریح : الْإِغْتِسَالُ عِنْدَ دُخُولِ مَكَّةَ : مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے کچھ آداب ہیں جن میں سے بعض واجب ہیں اور بعض مسنون و مستحب۔باب ۳۸ سے باب ۵۱ تک اسی قسم کے آداب کا ذکر ہے اور ضمناً اس شہر کی فضیلت کا بھی بیان ہے اور اس بارے میں جو غلو سے کام لیا گیا ہے اس کا بھی ذکر ہے۔پہلا ادب غسل ہے۔محرم کے لئے تین غسل ثابت ہیں۔ایک غسل احرام باندھتے وقت، دوسر اغنسل مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت جو در حقیقت غسل طواف ہے۔تیسرافنسل عرفات کے روز۔یہ نسل قائمقام وضو کے ہیں جو نماز کے لئے بطور شرط ہے۔امام مالک کے نزدیک یہ تینوں غسل ضروری ہیں۔جمہور کے نزدیک مستحب۔امام ابوحنیفہ اور ٹورٹی کے نزدیک وضو ان کا قائمقام ہو سکتا ہے۔(فتح الباری جزء ۳ صفحه ۵۴۹) (بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في الإحرام) روایت نمبر ۱۵۷۳ زیر باب ۲۹ بطور تعلیق مفصل گزر چکی ہے۔( نمبر ۱۵۵۳) اور باب ۱۴۸ میں بھی آئے گی۔ان مواقع کے علاوہ اگر محرم کسی اور موقع پر نہانا چاہے تو نہا سکتا ہے ممانعت نہیں۔اس تعلق میں باب ۷۸ کی تشریح بھی ملاحظہ ہو۔