صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 240
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۴۰ ٢٥ - كتاب الحج بوقت واپسی۔قربانی جیسے حج میں ضروری ہے ایسا ہی تمتع میں بھی۔اور قربانی میسر نہ ہونے پر حج وغیرہ دونوں صورتوں میں تین روزے رکھنے ہوں گے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ذَلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔تمتع کی یہ اجازت ان لوگوں کے لئے ہے جن کا خاندان مسجد حرام کا باشندہ نہ ہو۔حاضر کے معنی شہری۔بَادٍ کے معنی بادیہ نشین۔مفہوم آیت کے بارے میں اختلاف ہوا ہے۔حاضِرِى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سے امام مالک و غیره نے اہل مکہ اور اس کے قرب وجوار میں رہنے والے مراد لئے ہیں اور مجاہد اور طاؤس بن کیسان نے صرف اہل حرم۔طاؤس بھی تابعی اور اعلیٰ پایہ کے فقیہہ اور مجاہد و عمرو بن دینار کے ہم عصر تھے۔مکہ مکرمہ میں ۱۰۶ ھ میں فوت ہوئے سلے امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے بھی امام مالک کی تائید کی ہے اور ایسے مضافات کو اہل حرم میں ہی شامل رکھا ہے جہاں نماز قصر کرنا جائز نہیں۔امام ابوحنیفہ، عطاء بن ابی رباح اور کحول بن عبد اللہ کے نزدیک مواقیت احرام سے لے کر مکہ مکرمہ تک کے رہنے والے سب حَاضِرِى الْمَسْجِدِ الْحَرَام میں شامل ہیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۵۴۷ ) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۲۰۵) سکھول شام کے فقہاء میں سے تھے اور اعلیٰ پایہ کے مفتی۔۱۱۸ھ میں فوت ہوئے۔غرض فقہاء کے مذکورہ بالا اختلاف کے پیش نظر یہ باب قائم کیا گیا ہے۔محولہ بالا آیت کی رو سے اہل مکہ حج کے ایام میں تمتع نہیں کر سکتے۔جمہور کے نزدیک تمتع کے لئے ضروری ہے کہ ایک ہی سفر ہو اور حج کے مہینوں میں حج سے قبل کیا جائے اور تمتع کرنے والا مکہ مکرمہ کا باشندہ نہ ہو۔اگران شرطوں میں سے ایک شرط بھی مفقود ہوتو تمتع کی صورت نہیں رہے گی۔محولہ بالا روایت سے جو بطور تعلیق یعنی حاشیہ ہے، واضح ہے کہ تمتع کرنے والے صحابہ مکہ کے باشندے نہ تھے اور یہ صحابہ دو قسم کے تھے۔ایک وہ جن کے ساتھ قربانی تھی اور دوسرے وہ جن کے ساتھ قربانی نہ تھی۔عمرہ سے فارغ ہونے پر قربانی نہ رکھنے والوں کا احرام کھلوایا گیا اور پھر آٹھویں تاریخ ذوالحج کو جب حج شروع ہوا تو انہیں حج کا احرام باندھنے کے لئے کہا گیا اور جن کے ساتھ قربانی تھی، انہیں عمرہ کے بعد بحالت احرام رہنے کا حکم دیا گیا۔ان کے علاوہ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔(روایت نمبر ۱۵۶۲) غرض یہ سب باہر سے آنے والے تھے۔اس باب کی روایت کو وَقَالَ سے شروع کیا ہے۔اس سے سابقہ ابواب کے مضمون کی تائید کرنا مقصود ہے کہ تمتع میں عمرہ کا احرام کھولنے اور احترام نہ کھولنے کی ؛ دونوں صورتیں ہیں۔امام مالک کے نزدیک تمتع میں پانچویں شرط یہ بھی ہے کہ عمرہ بھی حج کے مہینے میں ہو اور اس کا احرام ضرور کھولا جائے۔مگر جیسا کہ باب ۳۶ کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے کہ قرآن بھی درحقیقت تمتع ہی کی ایک صورت ہے جس میں احرام نہیں کھولا جاتا۔(تهذيب التهذيب، حرف الطاء ، من اسمه طاؤس - طاؤس بن كيسان) (تهذيب التهذيب، الميم مع الكاف، من اسمه مكحول)