صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 239
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۳۹ ٢٥ - كتاب الحج تَعَالَى: فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ ہوئے تو ہم ( مکے میں ) آئے اور بیت اللہ اور صفا و لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجَّ مروہ کا طواف کیا کیونکہ ہمارا حج پورے طور پر ادا ہو وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ (البقرۃ: ۱۹۷) چکا تھا اور ہم پر قربانی واجب ہوگئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے إِلَى أَمْصَارِكُمْ الشَّاةُ تَجْزِي فَجَمَعُوا فرمایا ہے: جو قربانی میسر ہو، وہ کرے اور جونہ پا اور جو نہ پائے تو وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور (پھر) نُسُكَيْنِ فِي عَامٍ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ سات روزے رکھو جب تم اپنے شہروں کو لوٹو ۔ ایک فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَنْزَلَهُ فِي كِتَابِهِ وَسَنَّهُ بکری بھی قربانی میں کافی ہے۔ چنانچہ صحابہ نے ایک نَبِيُّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَاحَهُ ہی سال میں دونوں عبادتیں جمع کیں یعنی حج اور عمرہ ۔ لِلنَّاسِ غَيْرَ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ اللهُ : ذَلِكَ یونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت اپنی کتاب یا لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِی نازل فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عملاً ط میں الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (البقرة: ۱۹۷) جاری فرمایا اور ان لوگوں کے لئے جو سکے کے رہنے وَأَشْهُرُ الْحَجَ الَّتِي ذَكَرَ اللهُ تَعَالَى والے نہیں، تمتع جائز قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ فِي كِتَابِهِ شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَةِ اجازت ان لوگوں کے لئے ہے جن کے اہل بیت وَذُو الْحَجَّةِ فَمَنْ تَمَتَّعَ فِي هَذِهِ مسجد حرام کے باشندے نہ ہوں اور حج کے مہینے جن کا الْأَشْهُرِ فَعَلَيْهِ دَمْ أَوْ صَوْمٌ وَالرَّفَثُ ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے؛ یہ ہیں: شوال، ذیقعدہ اور ذوار ذوالج۔ اور جس نے ان مہینوں الْجِمَاعُ وَالْفُسُوقُ الْمَعَاصِي میں تمتع کیا تواس کے لئے قربانی دینا یاروزہ رکھنا لازم وَالْجِدَالُ الْمِرَاءُ۔ ہے۔ اور رفت کے معنی جماع اور فُسُوق کے معنی احکام الہی کی نافرمانی اور جدال کے معنی جھگڑا۔ تشريح : ذَلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ آيت فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ (البقرة : ۱۹۷) سے واضح ہے کہ تمتع میں عمرہ سے فارغ ہونے پر جو قربانی میسر ہو کی جائے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمُ ۔ یعنی اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے ایام حج میں اور سات روزے حج سے فارغ ہونے کے بعد الفاظ في كِتَابِهِ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ ۵۴۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔