صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 238
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۳۸ ٢٥-كتاب الحج بَاب ۳۷ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى ذلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: یہ ( روزے) اس کے لئے ہیں جس کے گھر والے مسجد حرام کے باشندے نہ ہوں (البقرة: ۱۹۷) ١٥٧٢: وَقَالَ أَبُو كَامِل فُضَيْلُ :۱۵۷۲ ابو کامل فضیل بن حسین بصری نے کہا: ابْنُ حُسَيْنِ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ابو معشر (یوسف بن یزید براء) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ عِكْرِمَةَ ) کہا : ( عثمان بن غیاث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ عکرمہ سے عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَقَالَ أَهَلَّ سے روایت کی کہ ان سے حج میں تمتع کرنے کی بابت الْمُهَاجِرُوْنَ وَالْأَنْصَارُ وَأَزْوَاجُ النَّبِيَ پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: مہاجرین اور انصار صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے حجۃ الوداع میں الْوَدَاع وَأَهْلَلْنَا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ احرام باندھا اور ہم نے بھی احرام باندھا۔جب ہم رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اجْعَلُوْا إِهْلَالَكُمْ بِالْحَجَ عُمْرَةً إِلَّا مَنْ اپنے اس حج کا احرام عمرہ میں بدل دو؛ سوائے ان قَلَّدَ الْهَدْيَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا کے جنہوں نے قربانی کے گلے میں ہار ڈالا ہو۔ہم وَالْمَرْوَةِ وَأَتَيْنَا النِّسَاءَ وَلَبِسْنَا نے بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کیا۔القِيَابَ وَقَالَ مَنْ قَلَّدَ الْهَدْيَ فَإِنَّهُ لَا پھر ہم نے اپنی عورتوں سے مباشرت بھی کی اور سلے يَحِلُّ لَهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدَى مَحِلَّهُ ثُمَّ کپڑے پہنے۔آپ نے فرمایا: جس نے قربانی کے أَمَرَنَا عَشِيَّةَ التَّرْوِيَةِ أَنْ نُهِلَّ بِالْحَخِ گلے میں ہار ڈالا ہو؛ اس کے لئے یہ باتیں جائز نہیں فَإِذَا فَرَغْنَا مِنَ الْمَنَاسِكِ جِتْنَا فَطُفْنَا جب تک که قربانی ذبح نہ ہوئے۔پھر آپ نے ہمیں بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَدْ تَمَّ ذوالحج کی آٹھویں تاریخ کی شام کو حکم دیا کہ ہم حج کا حَجَّنَا وَعَلَيْنَا الْهَدْيُ كَمَا قَالَ اللهُ احرام باندھیں اور جب ہم حج کی عبادتوں سے فارغ