صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 237
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۳۷ ٢٥ - كتاب الحج عَنْهُ قَالَ تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ حضرت عمران بن حصین) رضی اللہ عنہ سے مروی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ الْقُرْآنُ ہے۔ انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ۔ اطرافه: ٤٥١٨۔ کے زمانہ میں تمتع کیا اور اس کے متعلق وحی بھی نازل زمانہ ہوئی مگر ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہ دیا۔ صلى الله تشريح : التَّمَتَّعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ : امام موصوف نے مخلف عناوین اور تلف سندوں سے اس صورت تمتع کی ؛ جس کے بارے میں اختلاف ہوا ہے؟ وضاحت کی ہے۔ روایت نمبر ۱۵۵۹ میں گذر چکا ہے کہ حضرت عمر نے آیت وَاتِمُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ (البقرة : ۱۹۷) اور سنت نبویہ کی بناء پر قرآن کی اصل تمتع قرار دیا ہے اور تمتع کی وہ صورت جس کے اختیار کرنے کے لئے صحابہ کو حکم دیا گیا تھا؛ وہ ان کے نزدیک ایک وقتی ضرورت تھی تمتع کے معنی فائدہ اُٹھانا۔ آیت فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ (البقرة : ۱۹۷) سے یہ سمجھا گیا ہے کہ عمرہ کرنے کے بعد احرام کی پابندی سے آزادی حاصل کر کے حلال باتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور اس کے بعد حج کے لئے احرام باندھا جائے ۔ حضرت عمرؓ نے اس بات سے روکا اور فرمایا کہ تمتع اصل میں یہ ہے کہ حج کے ایام میں حج اور عمرہ دونوں ایک ہی احرام سے کئے جائیں اور یہ صورت قرآن کی ہے۔ حضرت عمرؓ اور ان کے بعد حضرت عثمان نے تمتع کی باقی صورتوں سے روکا ہے۔ حضرت عمرؓ سے متعلق تو یہاں تک مروی ہے کہ اگر دوسری صورت اختیار کی گئی تو سزا دی جائے گی۔ (بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في التمتع قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ: اس سے مراد حضرت عمر رت عمر ہی ہیں جنہوں نے سب سب سے پہلے روکا روکا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمتع میں نامناسب صورت پیدا ہو جانے پر حضرت عمر کو روکنا پڑا۔ اسی طرح فتح حج بھی اگر بلا ضرورت ہو تو یقیناً قابل اعتراض ہے۔ نص صریح فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ (البقرة: ۱۹۷) اور ارشاد وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ (البقرة: ۱۹۷) نیز سنت نبویہ کے پیش نظر حضرت عمرؓ نے ایسا فر مایا تھا۔ لیکن بعض حالات : حالات میں انسان کو مکہ مکرمہ میں حج شروع ہونے سے قبل جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور وہاں اپنے تعلقات یا کاروبار کی وجہ سے ٹھہر نا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں دیر تک بحالت احرام رہنا موجب تکلیف تھا۔ اس لئے افراد کی صورت سے فائدہ اُٹھایا گیا۔ (دیکھئے باب (۳۴) حضرت علیؓ نے اس بارے میں سختی ناپسند کی ۔ یہی امر ذہن نشین کرانے کے لئے تمتع سے متعلق مذکورہ بالا عنوان الگ قائم کر کے روایت نمبر ۱ ۵۷ الائی گئی ہے۔ اس میں تمتع کے بارے میں وحی الہی کا حوالہ دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پیش کیا گیا ہے۔