صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 236
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۳۶ ٢٥ - كتاب الحج اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَدِمْنَا مَعَ سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) ہم رسول اللہ ﷺ کے وَنَحْنُ نَقُوْلُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ بِالْحَجِّ ساتھ (مکہ میں ) آئے اور ہم یہ کہ رہے تھے: لبیک فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ بِالْحَقِّ یعنی ہم حاضر ہیں ۔ اے اللہ ! ہم حاضر ہیں حج کرنے کے لئے۔ رسول اللہ فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً۔ صلى الله نے ہم سے فرمایا اور ہم نے حج کو حج کو عمرہ کر دیا۔ اطرافه: ١٥٥٧ ، 1٥٦٨، 1651 ، 1785 ، ٢٥٠٦ ، ٤٣٥٢ ، ٧٢٣٠، ٧٣٦٧۔ تشريح : مَنْ لَبِي بِالْحَقِّ وَسَمَّاهُ : تمتع تمتع کی دو صورتیں ایسی ہیں جن کی نسبت اختلاف کیا گیا ہے۔ ایک حج کی نیت فتح کر کے عمرہ کی نیت کرنا اور دوسری صورت صورت وہ ہے جو سابقہ باب کی تشریح میں بیان کی گئی ہے۔ فتح حج کی صورت کو بھی علماء صد راول جمہور اور دیگر فقہاء نے صحابہ کرام کے لئے خاص قرار دے کر دوسروں کے لئے ناپسند کی ہے۔ کیونکہ جمہور کے نزدیک اب جبکہ احکام کی وضاحت ہو چکی ہے؛ فتح کی صورت منسوخ ہے۔ حضرت ابن عباس نے جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے، اپنے وقت میں اسے جائز قرار دیا تھا۔ (دیکھئے روایت نمبر ۱۵۶۷) اور امام احمد بن حنبل وغیرہ نے بھی ان کی تائید کی ہے۔ (فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ۵۴۴) تفصیل کے لئے دیکھے بداية المجتهد، کتاب الحج، القول في التمتع۔ امام موصوف نے عنوانِ باب میں اسی امر کی طرف توجہ خصوصیت سے منعطف کی ہے کہ صحابہ کرام نے صرف حج کی نیت ہی نہیں کی تھی جو مسخ کی گئی تھی بلکہ اس کا احرام باندھ کر اور حج کا نام لے کر تلبیہ بھی پکارا اور پھر اسے فتح کیا تھا کیونکہ حج کی شرطیں مکمل نہ تھیں۔ فتح حج کے جواز کا صرف اسی قدر مفہوم ہے کہ اگر ضرورت حقہ کے ماتحت حج فسخ کرنا پڑے تو ضح کیا جا سکتا ہے۔ یہ معنی نہیں کہ عمد ا فسخ کرنے کی نیت سے حج کا احرام باندھ کر اسے فسخ کیا جائے۔ اسی امر کے پیش نظر من کا جواب مقدر کیا گیا ہے۔ جو یہ ہے: جَازَ لَهُ أَنْ يُفْسِخَ عِنْدَ الضُّرُورَةِ یعنی جائز ہے کہ ضرورت کے وقت حج فتح کر دے۔ بَاب ٣٦ : التَّمَتَّعُ عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تمتع ١٥٧١: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۱۵۷۱ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ ( کہا: ) تمام ( بن يحي ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حَدَّثَنِي مُطَرِّفٌ عَنْ عِمْرَانَ رَضِيَ اللهُ قتاده سے روایت کی۔ کہا: مطرف نے مجھے بتایا کہ