صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 235 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 235

صحيح البخاری جلد۳ ۲۳۵ ٢٥- كتاب الحج قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ امام موصوف نے اس روایت کو مستند مرفوع قرار دے کر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ ایسے راوی کی روایت قابل التفات نہیں جیسا کہ مغلطائی کا خیال ہے۔امام ابن حجر نے بھی ان کے اس خیال کو رد کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۵۴۴) نویں روایت سعید بن مسیب کی ہے۔اس سے ثابت کیا گیا ہے کہ باوجود اختلاف کے سابقہ تعامل برقرار رہا اور حضرت علی کا استدلال اور ان کا عمل قابل تمسک ہے۔غرض امام موصوف نے ایک معین ترتیب میں یہ روایتیں پیش کر کے زیر عنوان مختلف صورتوں کی وضاحت کی ہے۔رویت نمبر ۱۵۶۴ سے ظاہر ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی عمرہ ہوتا تھا۔مگر حج کے مہینوں میں عمرہ بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔عرب رجب کے مہینہ میں عمرہ کرتے تھے اور وہ اَشْهُرُ الْحُرُم میں سے قابل عزت مہینہ شمار کیا گیا ہے تا لوگ امن سے عمرہ ادا کر کے اپنے گھروں کو لوٹیں۔مظالم کے انسداد اور مظلوموں کی حق رسی کی غرض سے جو حلف الفضول کی جماعت قائم ہوئی تھی؛ اس کا قیام اس وجہ سے ہوا تھا کہ زمانہ جاہلیت میں عاص بن وائل نے زبیدی قبیلہ کے ایک شخص سے سامان خریدا اور اس کی قیمت دینے سے انکار کر دیا تھا۔اس نے آل فہر کو مخاطب کر کے مدد طلب کی۔مندرجہ ذیل اشعار اس کی طرف منسوب ہیں جن سے عمرہ کے وجود اور اس کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔کہتا ہے:۔يَا آلَ فَهُرٍ لِمَظْلُومٍ بِضَاعَتَهُ بِبَطْنِ مَكَّةَ نَانِي الدَّارِ وَالنَّفَر وَمُحْرِم شَعَتْ لَمْ يَقْضِ عُمْرَتَهُ يَا آلَ غَالِبِ بَيْنَ الْحِجْرِ وَالْحَجَر أَمْ ذَاهِبٌ فِي ضَلَالٍ مَالُ مُعْتَمِرُ أَ قَائِمٌ فِي بَنِي سَهُم بِذِمَّتِهِمُ اخبار مكة، ذكر حلف الفضول وسببه و تفسيره، جزء ۵ صفحه ۱۹۰) (التذكرة الحمدونية، الباب الثانى عشر ما جاء في العدل والجور) ترجمہ: اے فہر کی اولاد! اس شخص کی مدد کو پہنچو جس کے سامان تجارت میں ظلم کیا گیا ہے اور اس کا حق مارا گیا ہے۔مکہ کی وادی میں ایسی حالت میں جبکہ وہ اپنے گھر اور اپنے لوگوں سے دور ہے۔احرام باندھے ہوئے ہے، غبار آلودہ ہے۔ابھی تک اس نے اپنا عمرہ ادا نہیں کیا۔اے آل غالب! حجر اور حجر کے درمیان بنی سہم میں سے کوئی ہے جو اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے ولا ہو یا عمرہ کرنے والے کا مال اسی طرح ضائع چلا جائے گا۔بَابِ ٣٥ : مَنْ لَبَّى بِالْحَجِّ وَسَمَّاهُ جس نے حج کے لئے لبیک کہا اور حج کا نام لیا ١٥٧٠: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۱۵۷۰ مدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا : ) حماد حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب (سختیانی) مُجَاهِدًا يَقُوْلُ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے مجاہد سے