صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 234 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 234

صحيح البخاری جلد ۳ ٢٥ - كتاب الحج مذہب امام ابو حنیفہ اور ثوری رحمۃ اللہ علیم وغیرہ کا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے افراد کا احرام باندھا تھا۔مگر زمانہ جاہلیت کے باطل عقیدہ کی اصلاح کرنے کی غرض سے آپ نے حج کے ایام میں عمرہ کی نیت بھی کر لی اور صحابہ کو بھی عمرہ کرنے کے لئے فرمایا۔زمانہ جاہلیت میں حج کے موسم میں عمرہ سخت گناہ سمجھا جاتا تھا۔یہی بات واضح کرنے کے لئے امام موصوف نے اس باب میں چوتھی روایت (نمبر۱۵۶۴) پیش کی ہے۔اس تعلق میں باب ۳۶ کی تشریح بھی دیکھئے۔أَيُّ الْحِلّ: حج میں سلا ہوا لباس پہنا، عطر وغیرہ لگانا اور ازدواجی تعلق جائز نہیں۔صحابہ کرام معین طور پر دریافت کرنا چاہتے تھے کہ عمرہ کا احرام کھولنے پر کونسی باتیں جائز ہیں۔پانچویں روایت پہلے (نمبر ۱۵۵۹ میں ) مفصل گزر چکی ہے۔اس روایت سے فتح حج کی صورت واضح ہے۔فَأَمَرَهُ بِالْحِلّ۔آپ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے فرمایا: عمرہ کرنے کے بعد حج کا احرام کھول دیں۔انہوں نے دونوں کی نیت کی تھی۔چنانچہ انہوں نے کھول دیا۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۵۵۹) چھٹی روایت حضرت ابن عمر کی ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خیال درست نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج بصورت افراد کیا ہے۔یعنی اس سال عمرہ نہیں کیا۔حضرت حفصہ کے سوال وَلَمْ تَحْلِلُ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ سے ظاہر ہے کہ آپ نے عمرہ کیا۔تَمَتَّعُتُ فَنَهَانِي نَاسٌ : ساتویں روایت کا تعلق حضرت عبد اللہ بن زبیر کے عرصہ خلافت سے ہے۔یہ بھی تمتع سے روکا کرتے تھے۔ان کے نزدیک تمتع صرف اس شخص کے لئے ہے جو بوجہ بیماری یا خطرہ کی وجہ سے حج نہ کر سکے۔جب امن ہو تو وہ بیت اللہ میں آکر عمرہ کر کے احرام کھول دے اور پھر آئندہ سال تمتع ( عمرہ اور حج ) کرلے۔(فتح الباری جزء ۳ صفحه ۵۴۲) (بداية المجتهد، كتاب الحج، القول فى التمتع انہوں نے آیت فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي (البقرة: ۱۹۷) پس جب تم امن میں آجاؤ تو جو حج کے ساتھ عمرہ سے فائدہ اُٹھائے تو جو قربانی میسر ہو؛ کی جائے] سے استنباط کیا ہے مگر ان کا یہ استنباط صحیح نہیں۔حضرت ابن عباس نے اسے قبول نہیں کیا۔لَا يَحِلُّ مِنّى حَرَامٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدَى مَحِلَّهُ: آٹھویں روایت موسیٰ بن نافع ابو شہاب کی ہے۔اس روایت میں اس امر کی تصریح کی ہے کہ وَقَدْ اَهَلُوا بِالْحَقِّ مُفْرَدًا صحابہ کرام نے صرف حج کا احرام باندھا تھا جو حکماً کھولا گیا۔اس سے فتح حج کی صورت واضح ہے۔تَصِيرُ الآنَ حَجَّتُكَ مَكِيَّةٌ۔یعنی ثواب کم ہوگا۔جیسا کہ اہل مکہ کو حج کے لئے سفر کی مشقت نہیں جھیلنی پڑتی۔تمہاری حالت بھی ان جیسی ہے۔کیونکہ تمتع کی صورت میں احرام کھولنا اور حج کے لئے مکے میں ہی نیا احرام باندھنا ہو گا۔اس ضمن میں دیکھئے تشریح باب ۳۷۔یہ بحث کہ افراد تمتع اور قران کی صورتوں میں سے کون سی افضل ہے؟ اس کا جواب روایت نمبر ۵۶۸ اسے دیا گیا ہے۔اصل ثواب حکم کی تعمیل میں ہے۔اگر کسی کے ساتھ قربانی ہو تو قران افضل ہے اور اگر نہ ہوتو عمرہ۔اگر اپنی غلطی معلوم ہونے پر حج فسخ کرنا پڑے تو پھر یہ بھی افضل ہے۔