صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 233 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 233

صحيح البخاري - جلد۳ ۲۳۳ ٢٥- كتاب الحج نیا احرام باندھ کر الگ عمرہ کرنا فتح حج یہ ہے کہ حج کا احرام باندھا جائے پھر بجائے حج ، عمرہ کر کے احرام کھول دیا جائے۔بعض فقہاء کے نزدیک یہ صورت فسخ جائز نہیں۔مگر امام بخاری کے نزدیک (جیسا کہ امام ابن حجر نے اشارہ کیا ہے ) نیست حج کی صورت میں بھی اگر قربانی میسر نہ ہو تو حج مسخ ہو سکتا ہے۔(فتح الباری جزء ۳ صفحه ۵۳۳) ان چاروں صورتوں کو واضح کرنے کی غرض سے نو (۹) روایتیں اس باب کے ضمن میں درج کی گئی ہیں۔پہلی دو روایتیں (نمبر ۱۵۶۲۱۵۶۱) حضرت عائشہ کی ہیں جس میں انہوں نے حج کے بعد عمرہ کا احرام باندھا اور یہ صورت تمتع کی تھی۔واقعہ مذکورہ حجتہ الوداع میں ہوا تھا۔جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی صراحت ہے اور اس میں قران کا بھی ذکر ہے۔اَو جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لَمُ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ یعنی حج اور عمرہ اکٹھا کیا اور احرام نہیں کھولا یہاں تک کہ قربانی کا دن آیا۔عَقُرى حَلْقی: روایت نمبر ۱۵۶۱ میں الفاظ عَفری خلقی قابل تشریح ہیں۔یہ الفاظ اپنے ظاہری معنوں میں نہیں بلکہ ان سے مراد اس اضطراب کا اظہار ہے جو بعض وقت انسان ایسے موقع پر محسوس کرتا ہے اور یہ ہلکی سی توبیخ کا بھی رنگ رکھتے ہیں۔تحریص و ترغیب کے موقع پر بھی استعمال ہوتا ہے۔دعا یا بددعا کے معنوں میں یہ فقرہ استعمال نہیں ہوتا۔(لسان العرب، عقر) (عمدۃ القاری جزء 9 صفحہ ۱۹۷) نیز عَفَرَ کا ایک معانی حَبَسَهُ عَنِ السَّيْرِ (المنجد فی اللغة- عقی) بھی ہے یعنی اس نے اُسے چلنے سے روک دیا۔اس صورت میں سیاق و سباق کے مطابق مفہوم بھی اخذ ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کو اور صحابہ کو چلنے سے روکنے کا موجب بن رہی ہیں اور لفظ خلقی میں حج کی علامتوں میں سے بال کاٹنے کی علامت کی طرف اشارہ ملتا ہے۔وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتَعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا: تیسری روایت (نمبر ۱۵۶۳) حکم بن عتیبہ کی ہے جو بسند امام زین العابدین علی بن حسین اور مروان بن حکم منقول ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گویا حضرت عثمان نے تمتع اور قرآن سے روکا ہے اور حضرت علی نے اس ممانعت کو سنت نبویہ کے خلاف دیکھ کر عمرہ اور حج کا احرام باندھا۔اس روایت کی تائید سعید بن مسیب کی روایت ( نمبر ۱۵۶۹) سے بھی ہوتی ہے۔امام بخاری پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ وہ مروان بن حکم جیسے اشخاص کی روایت بھی قبول کرتے ہیں۔لیکن حقیقت میں ایسے لوگوں کی روایتیں انہوں نے اسی صورت میں قبول کی ہیں جب دوسری سندوں اور قرائن سے ان کی صحت کا ان کو یقین ہوا۔حضرت عثمان نے غالباً افراد کو تمتع اور قران سے افضل سمجھ کر نیز بعض نا مناسب صورتیں پیدا ہو جانے پر لوگوں کو ان سے روکا ہے ورنہ اس کا جواز اُن سے مخفی نہ تھا۔اس روایت سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ صحابہ کے درمیان بھی اس بارے میں کچھ اختلاف پیدا ہوا تھا۔مگر باوجود اس کے تعامل وہی رہا اور حضرت عثمان نے اس کے بعد کسی کو نہیں روکا۔مَا كُنتُ لِأَدَعَ سُنَّةَ النَّبِيِّ۔نسائی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : فَقَالَ عُثْمَانُ أَتَفْعَلُهَا وَأَنَا أَنْهَى عَنْهَا فَقَالَ عَلِيٌّ لَمْ أكُنْ لِأَدَعَ سُنَّةَ رَسُولِ الله لهم لأحَدٍ مِنَ النَّاسِ (نسائي، كتاب مناسك الحج، باب القران) یعنی حضرت عثمان نے حضرت علی کو کہا: کیا تم وہ کام کرتے ہو جس سے میں منع کرتا ہوں؟ حضرت علی نے کہا: میں لوگوں میں سے کسی کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑنے والا نہیں ہوں۔مذکورہ بالا روایت میں حضرت علی کے مندرجہ الفاظ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ جواب حضرت عثمان کی بات پر دیا ہے جو یہاں مقدر ہے۔صحابہ کرام اور تابعین میں سے ایک فریق نے قرآن کو افراد اور تمتع سے افضل قرار دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار کیا تھا۔یہی صلى الله